بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الوليمة
ولیمہ کا بیان
حدیث نمبر: 894
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «شر الطعام طعام الوليمة يمنعها من يأتيها، ويدعى إليها من يأباها، ومن لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله» . أخرجه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے کہ آنے والے (مستحقین) کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکاری ہو اسے مدعو کیا جاتا ہے اور جس نے دعوت (ولیمہ) کو قبول و منظور نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 894]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «شَرُّ الطَّعَامِ» سب سے برا کھانا – «طَعَامُ الْوَلِيمَةِ» اس ولیمے کا کھانا ہے – «يُمْنَعُهَا» جس سے روکا جاتا ہے – «مَنْ يَأْتِيهَا» اسے جو اس میں آنا چاہتا ہے – «وَيُدْعَى إِلَيْهَا» اور اس کی طرف بلایا جاتا ہے – «مَنْ يَأْبَاهَا» اسے جو اس سے انکار کرتا ہے – «وَمَنْ لَمْ يُجِبِ» اور جس نے قبول نہ کی – «الدَّعْوَةَ» دعوت – «فَقَدْ عَصَى» تو یقیناً اس نے نافرمانی کی – «اللَّهَ وَرَسُولَهُ» اللہ اور اس کے رسول کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں آنے والوں (محتاجوں) کو روکا جائے اور انکار کرنے والوں (مالداروں) کو بلایا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 894]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں آنے والوں (محتاجوں) کو روکا جائے اور انکار کرنے والوں (مالداروں) کو بلایا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1432.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 894 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 894
تخریج:
«أخرجه مسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1432.» تشریح:
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس دعوت میں فقراء اور اغنیاء دونوں کو مدعو کیا گیا ہو‘ اس میں شر نہیں ہوتا۔
«أخرجه مسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1432.»
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس دعوت میں فقراء اور اغنیاء دونوں کو مدعو کیا گیا ہو‘ اس میں شر نہیں ہوتا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 894]
Bulughul Maram Hadith 894 in Urdu