بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الوليمة
ولیمہ کا بیان
حدیث نمبر: 892
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة، فقال:«ما هذا؟» قال: يا رسول الله! إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب. قال: «فبارك الله لك، أولم ولو بشاة» . متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے کپڑوں پر زرد رنگ لگا ہوا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کیا ہے؟“ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک عورت سے ایک گھٹلی کے مساوی سونا دے کر نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے، ولیمہ ضرور کرو خواہ ایک بکری ہی ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 892]
«عَنْ» سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَأَى» نے دیکھا – «عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ» عبدالرحمن بن عوف پر – «أَثَرَ صُفْرَةٍ» زردی کا نشان – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «مَا هَذَا» یہ کیا ہے؟ – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنِّي تَزَوَّجْتُ» میں نے نکاح کیا ہے – «امْرَأَةً» ایک عورت سے – «عَلَى وَزْنِ» وزن پر – «نَوَاةٍ» گٹھلی کے – «مِنْ ذَهَبٍ» سونے کی۔ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ» تو اللہ تمہیں برکت دے – «أَوْلِمْ» ولیمہ کرو – «وَلَوْ بِشَاةٍ» خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی (خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے وزن کے برابر سونے (کے مہر) پر نکاح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے، ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 892]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی (خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے وزن کے برابر سونے (کے مہر) پر نکاح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے، ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الوليمة ولو بشاة، حديث:5167، ومسلم، النكاح، باب الصداق وجواز كونه تعليم قرآن و خاتم حديد......، حديث:1427 قبل الحديث:1365.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 893
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا دعي أحدكم إلى وليمة فليأتها» . متفق عليه. ولمسلم: «إذا دعا أحدكم أخاه فليجب، عرسا كان أو نحوه» .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر مدعو کیا جائے تو اسے وہاں پہنچنا چاہیئے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی مدعو کرے تو اسے اس کی دعوت کو قبول کرنا چاہیئے خواہ وہ شادی ہو یا اسی طرح کی کوئی اور دعوت۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 893]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا» جب – «دُعِيَ» بلایا جائے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کسی کو – «إِلَى وَلِيمَةٍ» ولیمے کی طرف – «فَلْيَأْتِهَا» تو وہ اس میں آئے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «إِذَا دَعَا» جب دعوت دے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «أَخَاهُ» اپنے بھائی کو – «فَلْيُجِبْ» تو وہ قبول کرے – «عُرْسًا كَانَ» خواہ شادی (کی دعوت) ہو – «أَوْ نَحْوَهُ» یا اس جیسی کوئی اور۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور آئے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ قبول کرے، خواہ شادی کی دعوت ہو یا اس جیسی کوئی اور۔“ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 893]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور آئے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ قبول کرے، خواہ شادی کی دعوت ہو یا اس جیسی کوئی اور۔“ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب حق أجابة الوليمة والدعوة......، حديث:5173، ومسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1429.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 894
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «شر الطعام طعام الوليمة يمنعها من يأتيها، ويدعى إليها من يأباها، ومن لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله» . أخرجه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے کہ آنے والے (مستحقین) کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکاری ہو اسے مدعو کیا جاتا ہے اور جس نے دعوت (ولیمہ) کو قبول و منظور نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 894]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «شَرُّ الطَّعَامِ» سب سے برا کھانا – «طَعَامُ الْوَلِيمَةِ» اس ولیمے کا کھانا ہے – «يُمْنَعُهَا» جس سے روکا جاتا ہے – «مَنْ يَأْتِيهَا» اسے جو اس میں آنا چاہتا ہے – «وَيُدْعَى إِلَيْهَا» اور اس کی طرف بلایا جاتا ہے – «مَنْ يَأْبَاهَا» اسے جو اس سے انکار کرتا ہے – «وَمَنْ لَمْ يُجِبِ» اور جس نے قبول نہ کی – «الدَّعْوَةَ» دعوت – «فَقَدْ عَصَى» تو یقیناً اس نے نافرمانی کی – «اللَّهَ وَرَسُولَهُ» اللہ اور اس کے رسول کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں آنے والوں (محتاجوں) کو روکا جائے اور انکار کرنے والوں (مالداروں) کو بلایا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 894]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں آنے والوں (محتاجوں) کو روکا جائے اور انکار کرنے والوں (مالداروں) کو بلایا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1432.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 895
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا دعي أحدكم فليجب، فإن كان صائما، فليصل، وإن كان مفطرا فليطعم» . أخرجه مسلم أيضا. وله من حديث جابر نحوه وقال: «إن شاء طعم وإن شاء ترك» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جب تم میں سے کسی کو دعوت (ولیمہ) پر مدعو کیا جائے تو اسے منظور کرنا چاہیئے۔ اگر وہ روزے سے ہو تو دعا کرے اور اگر روزے سے نہ ہو تو پھر اسے کھانا کھانا چاہیئے۔ “ (مسلم) اور مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”اگر وہ چاہے تو کھانا کھا لے اور اگر وہ چاہے تو چھوڑ دے (یعنی نہ کھائے)۔ “ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 895]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا دُعِيَ» جب بلایا جائے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کسی کو – «فَلْيُجِبْ» تو وہ قبول کرے – «فَإِنْ كَانَ» پس اگر وہ ہو – «صَائِمًا» روزہ دار – «فَلْيُصَلِّ» تو وہ دعا کرے – «وَإِنْ كَانَ» اور اگر ہو – «مُفْطِرًا» بغیر روزے کے – «فَلْيَطْعَمْ» تو کھانا کھائے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «أَيْضًا» بھی۔ – «وَلَهُ» اور ان کی (روایت) ہے – «مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ» جابر کی حدیث سے – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنْ شَاءَ» اگر چاہے – «طَعِمَ» کھائے – «وَإِنْ شَاءَ» اور اگر چاہے – «تَرَكَ» چھوڑ دے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے، پھر اگر وہ روزے سے ہو تو (صاحب خانہ کے لیے) دعا کرے اور اگر روزے سے نہ ہو تو کھانا کھائے۔“ اسے بھی مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے: ”اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 895]
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے، پھر اگر وہ روزے سے ہو تو (صاحب خانہ کے لیے) دعا کرے اور اگر روزے سے نہ ہو تو کھانا کھائے۔“ اسے بھی مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے: ”اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب لأمر بإجابة الداعي إلٰي دعوة، حديث:1431، وحديث جابر: أخرجه مسلم، النكاح، حديث:1430.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 896
وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «طعام الوليمة أول يوم حق، وطعام يوم الثاني سنة، وطعام يوم الثالث سمعة، ومن سمع سمع الله به» . رواه الترمذي، واستغربه، ورجاله رجال الصحيح، وله شاهد عن أنس عند ابن ماجه.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ولیمہ کا کھانا پہلے روز حق ہے اور دوسرے روز سنت اور تیسرے روز کھانا تو نمود و نمائش ہے جو شخص ریاکاری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی تشہیر (یا اسے سزا) کرے گا۔ “ اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے غریب بھی قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہیں اور ابن ماجہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کی صورت میں اس کا ایک شاہد بھی موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 896]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «طَعَامُ الْوَلِيمَةِ» ولیمے کا کھانا – «أَوَّلَ يَوْمٍ» پہلے دن – «حَقٌّ» حق (ثابت) ہے – «وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّانِي» اور دوسرے دن کا کھانا – «سُنَّةٌ» سنت (معروف طریقہ) ہے – «وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّالِثِ» اور تیسرے دن کا کھانا – «سُمْعَةٌ» شہرت (دکھاوا) ہے – «وَمَنْ سَمَّعَ» اور جس نے شہرت چاہی – «سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ» اللہ اسے رسوا کرے گا (اس کی ریاکاری مشہور کر دے گا)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَاسْتَغْرَبَهُ» اور اسے غریب کہا – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «رِجَالُ الصَّحِيحِ» صحیح کے راوی ہیں – «وَلَهُ شَاهِدٌ» اور اس کا ایک شاہد ہے – «عَنْ أَنَسٍ» انس سے – «عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ» ابن ماجہ کے ہاں۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمے کا کھانا پہلے دن حق ہے، دوسرے دن کا کھانا سنت (رواج) ہے اور تیسرے دن کا کھانا شہرت و دکھاوا ہے، اور جو شہرت کے لیے کام کرے اللہ اس (کی ریاکاری) کو (لوگوں میں) مشہور کر دے گا۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا اور غریب کہا ہے، اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں، اور ابن ماجہ کے ہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 896]
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمے کا کھانا پہلے دن حق ہے، دوسرے دن کا کھانا سنت (رواج) ہے اور تیسرے دن کا کھانا شہرت و دکھاوا ہے، اور جو شہرت کے لیے کام کرے اللہ اس (کی ریاکاری) کو (لوگوں میں) مشہور کر دے گا۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا اور غریب کہا ہے، اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں، اور ابن ماجہ کے ہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، النكاح، باب ما جاء في الوليمة، حديث:1097.* عطاء اختلط، وللحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود، الأطعمة، حديث:3745 وغيره، وحديث أنس: أخرجه ابن ماجه، النكاح، حديث:1915، وفيه أبو مالك النخعي اتفقوا علي ضعفه كما قال البوصيري.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 897
وعن صفية بنت شيبة رضي الله عنها قالت: أولم النبي صلى الله عليه وآله وسلم على بعض نسائه بمدين من شعير. أخرجه البخاري.
سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کا ولیمہ دو مد جو سے کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 897]
«وَعَنْ» اور سے – «صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ» صفیہ بنت شیبہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أَوْلَمَ» ولیمہ کیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ» اپنی بعض بیویوں (کے نکاح) پر – «بِمُدَّيْنِ» دو مد کے ساتھ – «مِنْ شَعِيرٍ» جَو کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں (کے نکاح) پر دو مد جَو سے ولیمہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 897]
اور سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں (کے نکاح) پر دو مد جَو سے ولیمہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب من أولم بأقل من شاة، حديث:5172.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 898
وعن أنس قال: أقام النبي صلى الله عليه وآله وسلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية فدعوت المسلمين إلى وليمته فما كان فيها من خبز ولا لحم وما كان فيها إلا أن أمر بالأنطاع فبسطت فألقي عليها التمر والأقط والسمن. متفق عليه، واللفظ للبخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین روز تک قیام کیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا سے اسی مقام پر شب باشی کی تو میں نے مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی دعوت دی۔ بس اس دعوت میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت اس تقریب میں بس یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق چٹائیاں بچھائی گئیں اور ان پر کھجوریں، پنیر اور مکھن چن دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 898]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَقَامَ» ٹھہرے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ» خیبر اور مدینہ کے درمیان – «ثَلَاثَ لَيَالٍ» تین راتیں – «يُبْنَى عَلَيْهِ» آپ کی رخصتی کی جا رہی تھی – «بِصَفِيَّةَ» صفیہ کے ساتھ – «فَدَعَوْتُ» تو میں نے بلایا – «الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں کو – «إِلَى وَلِيمَتِهِ» آپ کے ولیمے کی طرف – «فَمَا كَانَ فِيهَا» تو اس میں نہ تھی – «مِنْ خُبْزٍ» کوئی روٹی – «وَلَا لَحْمٍ» اور نہ گوشت – «وَمَا كَانَ فِيهَا» اور اس میں کچھ نہ تھا – «إِلَّا أَنْ أَمَرَ» سوائے اس کے کہ آپ نے حکم دیا – «بِالْأَنْطَاعِ» چمڑے کے دسترخوانوں کا – «فَبُسِطَتْ» تو وہ بچھا دیے گئے – «فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا» پھر ان پر ڈال دیا گیا – «التَّمْرُ» کھجور – «وَالْأَقِطُ» اور پنیر – «وَالسَّمْنُ» اور گھی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ» اور الفاظ بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں ٹھہرے جہاں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آپ کے ساتھ رخصتی ہوئی، تو میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمے کی دعوت دی، اس ولیمے میں نہ روٹی تھی نہ گوشت، بس یہ تھا کہ آپ نے چمڑے کے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا، وہ بچھا دیے گئے اور ان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈال دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 898]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں ٹھہرے جہاں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آپ کے ساتھ رخصتی ہوئی، تو میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمے کی دعوت دی، اس ولیمے میں نہ روٹی تھی نہ گوشت، بس یہ تھا کہ آپ نے چمڑے کے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا، وہ بچھا دیے گئے اور ان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈال دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب اتخاذ السراري......، حديث:5085، ومسلم، النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها، حديث:1365 /3500.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 899
وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: إذا اجتمع داعيان فأجب أقربهما بابا فإن سبق أحدهما فأجب الذي سبق. رواه أبو داود وسنده ضعيف.
اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب دو آدمیوں نے دعوت طَعام دی ہو تو جس کا دروازہ متصل و قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور ان میں سے جو پہلے دعوت دے اس کی دعوت قبول کر لو۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 899]
«وَعَنْ» اور سے – «رَجُلٍ» ایک آدمی – «مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ» نبی کے صحابہ میں سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «إِذَا اجْتَمَعَ» جب اکٹھے ہو جائیں – «دَاعِيَانِ» دو دعوت دینے والے – «فَأَجِبْ» تو قبول کرو – «أَقْرَبَهُمَا» ان میں سے زیادہ قریب کی – «بَابًا» دروازے کے لحاظ سے – «فَإِنْ سَبَقَ» پھر اگر پہل کرے – «أَحَدُهُمَا» ان دونوں میں سے ایک – «فَأَجِبِ» تو قبول کرو – «الَّذِي سَبَقَ» اس کی جس نے پہل کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَسَنَدُهُ ضَعِيفٌ» اور اس کی سند ضعیف ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے ہو جائیں تو اس کی دعوت قبول کرو جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو، اور اگر ان میں سے ایک نے پہل کی ہو تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 899]
اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے ہو جائیں تو اس کی دعوت قبول کرو جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو، اور اگر ان میں سے ایک نے پہل کی ہو تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق، حديث:3756.* أبو خالد الدارلاني عنعن.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 900
وعن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا آكل متكئا» . رواه البخاري.
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” میں ٹیک لگا کر نہیں کھایا کرتا۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 900]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي جُحَيْفَةَ» ابو جحیفہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا آكُلُ» میں نہیں کھاتا – «مُتَّكِئًا» ٹیک لگا کر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 900]
اور سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأطعمة، باب الأكل متكئًا، حديث:5398.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 901
وعن عمر بن أبي سلمة قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «يا غلام! سم الله، وكل بيمينك، وكل مما يليك» . متفق عليه.
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ”اے بچے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 901]
0 [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 901]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأطعمة، باب التسمية علي الطعام والأكل باليمين، حديث:5376، ومسلم، الأشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، حديث:2022.»
الحكم على الحديث:
صحيح