یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حج کے مہینوں میں تجارت کرنا
حدیث نمبر: 357
اَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ: وَسُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ الْمُحْرِمِ، اَیُبِیْعُ وَیَبْتَاعُ؟ فَقَالَ: کَانُوْا یَتَّقُوْنَ ذٰلِکَ، حَتَّی نَزَلَتْ: ﴿لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَبِّکُمْ﴾ فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ۔ قَالَ: وَفِی قِرَاءَ ةِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّ فَابْتَغُوْا حِیْنَئِذٍ.
ابن جریج نے بیان کیا: عطاء رحمہ اللہ سے احرام والے شخص کے متعلق پوچھا گیا، کیا وہ خرید و فروخت کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اس سے بچتے تھے، حتیٰ کہ یہ آیت: «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ» ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ یعنی حج کے مہینوں میں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 357]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق»
مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 357 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 357
فوائد:
معلوم ہوا حج کے مہینوں میں تجارت کرنا جائز ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ایام حج میں مجاز، عکاظ، عرفات اور منی کے قریب تجارتی مراکز تھے۔ لوگ ان بازاروں سے خرید وفروخت کرتے۔ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایام حج میں خرید وفروخت کو اچھا نہ سمجھا تو مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔ اگر کوئی ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ ذوالجلال کی عبادت کرے تو زیادہ افضل ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا تجارت کے ذریعے نفع حاصل کرنا باعثِ خیر ہے کیونکہ اس کو اللہ ذوالجلال نے اپنا فضل کہا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو تجارت کرنی چاہیے۔ اللہ ذوالجلال نے تجارت میں بہت زیادہ نفع رکھا ہے۔
معلوم ہوا حج کے مہینوں میں تجارت کرنا جائز ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ایام حج میں مجاز، عکاظ، عرفات اور منی کے قریب تجارتی مراکز تھے۔ لوگ ان بازاروں سے خرید وفروخت کرتے۔ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایام حج میں خرید وفروخت کو اچھا نہ سمجھا تو مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔ اگر کوئی ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ ذوالجلال کی عبادت کرے تو زیادہ افضل ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا تجارت کے ذریعے نفع حاصل کرنا باعثِ خیر ہے کیونکہ اس کو اللہ ذوالجلال نے اپنا فضل کہا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو تجارت کرنی چاہیے۔ اللہ ذوالجلال نے تجارت میں بہت زیادہ نفع رکھا ہے۔
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 357]
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 357 in Urdu