🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
طلاق رجعی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ تَحْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ ضَرَبَهَا الطَّلْقُ فَكَتَمَتْهُ فَقَالَتْ: طَيِّبْ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ فَطَلَّقَهَا، فَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: ( (بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، اخْطِبْهَا إِلَى نَفْسِهَا) ) ، فَقَالَ: مَا لَهَا خَدَعَتْنِي خَدَعَهَا اللَّهُ.
عمرو بن میمون بن مہران نے اپنے والد سے روایت کیا: انہوں نے کہا: ام کلثوم بنت عقبہ، زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ نماز کے لیے چلے گئے، اور ان (اہلیہ) کو درد زہ شروع ہو گیا اور اسے چھپائے رکھا، انہوں نے کہا: ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دیجیئے، پس انہوں نے ایک طلاق دے دی، وہ (نماز پڑھ کر) واپس آئے تو انہوں نے بچے کو جنم دے دیا تھا، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے قانون کے مطابق مقررہ وقت پورا ہو چکا، اسے پیغام نکاح دو۔ انہوں نے کہا: اس نے مجھے دھوکہ دیا، اللہ اسے دھوکہ دے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، كتاب الطلاق، باب المطلقة الحامل الخ، رقم: 2026 . قال الشيخ الالباني: صحيح . سنن كبري بيهقي: 421/7 .»

مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 594 کے فوائد و مسائل
 الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 594
فوائد:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاُوْلَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (الطلاق:4) .... حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔
مطلقہ عورت کی عدت تین حیض ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ﴾ (البقرة: 228) .... مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔
سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے رجعی طلاق دی تھی، کیونکہ پہلی اور دوسری طلاق رجعی ہوتی ہے۔ تیسری میں اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ رجعی طلاق کی عدت وصع حمل یا تین حیض ہے۔ اگر ان سے پہلے پہلے رجوع کر لیں تو ٹھیک ہے۔ اگر بعد میں کریں تو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا اور وہ بھی اگر عورت پسند کرے گی تو ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح وضع حمل پر خاوند کی وفات کی عدت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 594]

Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 594 in Urdu