یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
بیک وقت تین طلاق دینے کا بیان
حدیث نمبر: 642
اَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ اِبْرَاهِیْمَ بْنِ مَسْیَرَةَ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، اَنَّ اَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ، اَلَمْ یَکُنْ طَلَاقُ الثَّلَاثِ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَاَبِیْ بَکْرٍ وَاحِدَةً، قَدْ کَانَ ذَاكَ، فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَهْدِ عُمَرَ تَتَابَعَ النَّاسُ فِی الطَّلَاقِ، فَاَجَازَهٗ عَلَیْهِمْ۔.
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اپنے کلمات میں سے کوئی بات پیش کریں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہیں ہوتی تھیں، معاملہ اسی طرح ہی تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو لوگوں نے بلا سوچے سمجھے طلاق دینا شروع کر دی، تو انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب النكاح و الطلاق/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطلاق، باب الطلاق الثلاث، رقم: 1472 . سنن كبريٰ بيهقي: 336/7 . طبراني كبير: 40/11 .»
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 642 in Urdu