یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
پچھنے لگوانے کی ترغیب
حدیث نمبر: 670
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَا بْنُ عَدِيٍّ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، احْتَجِمْ، فَقَالَ: مَا احْتَجَمْتُ قَطُّ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْحَجْمَ أَنْفَعُ مَا يَتَدَاوَى بِهِ النَّاسُ) ) .
ابوالحکم البحلی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جبکہ وہ پچھنے لگوا رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ابوالحکم! کیا تم نے پچھنے لگوائے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے کبھی بھی پچھنے نہیں لگوائے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے انہیں بتایا کہ لوگ جن چیزوں کے ذریعے علاج معالجہ کرتے ہیں، ان میں سے پچھنے لگوانا سب سے زیادہ مفید ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المرضٰي و الطب /حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «مستدرك حاكم: 232/4 . اسناده صحيح .»
مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث نمبر 670 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 670
فوائد:
سینگی یا پچھنے لگانا ایک بہترین طریقۂ علاج ہے جس میں ایک خاص طریقے سے جسم سے خون نکالا جاتا ہے، جب جسم کے کسی حصے میں خون کا دباؤ بڑھ جائے یا اس میں جوش آجائے، تو کسی تیز دھار آلے سے اس جگہ سے خون چوسا جاتا ہے۔ اور عربوں کے ہاں یہ ایک بہترین طریقہ علاج تھا۔
ایک دوسری روایت میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفا تین چیزوں میں ہے سینگی لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔ “ (بخاري، رقم: 5680۔ سنن ابن ماجة، رقم: 3491)
سینگی کا بہترین وقت مہینے کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے کے لیے مفید وقت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: ”جس نے مہینے کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنا لگوایا، تو وہ تمام بیماریوں سے شفا یاب ہو جائے گا۔“ (ابوداود: 3861۔ سلسلة صحیحة: 622)
سینگی یا پچھنے لگانا ایک بہترین طریقۂ علاج ہے جس میں ایک خاص طریقے سے جسم سے خون نکالا جاتا ہے، جب جسم کے کسی حصے میں خون کا دباؤ بڑھ جائے یا اس میں جوش آجائے، تو کسی تیز دھار آلے سے اس جگہ سے خون چوسا جاتا ہے۔ اور عربوں کے ہاں یہ ایک بہترین طریقہ علاج تھا۔
ایک دوسری روایت میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفا تین چیزوں میں ہے سینگی لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔ “ (بخاري، رقم: 5680۔ سنن ابن ماجة، رقم: 3491)
سینگی کا بہترین وقت مہینے کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے کے لیے مفید وقت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: ”جس نے مہینے کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنا لگوایا، تو وہ تمام بیماریوں سے شفا یاب ہو جائے گا۔“ (ابوداود: 3861۔ سلسلة صحیحة: 622)
[مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 670]
Musnad Ishaq Bin Rahwiya Hadith 670 in Urdu