الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
504. بَابُ مَنْ قَالَ: مَنْ ذَا؟ فَقَالَ: أَنَا
جس نے کون ہے کے جواب میں کہا: میں
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ، فَقَالَ: ”مَنْ هَذَا؟“ فَقُلْتُ: أَنَا بُرَيْدَةُ، جُعِلْتُ فِدَاكَ، فَقَالَ: ”قَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.“
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف گئے تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے دیکھ کر) فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں بریدہ ہوں، میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص (ابو موسیٰ) کو یقیناً داؤد علیہ السلام والی خوش الحانی دی گئی ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الاستئذان/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب صلاة المسافرين: 793»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 1087 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 1087
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جب پوچھا جائے کہ تم کون ہو؟ تو اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نام اور پتہ بتانا چاہیے۔ یہ کہنا کہ میں، میں ہوں، بے معنی سی بات ہے جسے آپ نے ناپسند فرمایا۔
دوسری حدیث میں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنا نام بتایا۔ نیز آل داؤد سے خود سیدنا داؤد علیہ السلام مراد ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جب پوچھا جائے کہ تم کون ہو؟ تو اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنا نام اور پتہ بتانا چاہیے۔ یہ کہنا کہ میں، میں ہوں، بے معنی سی بات ہے جسے آپ نے ناپسند فرمایا۔
دوسری حدیث میں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنا نام بتایا۔ نیز آل داؤد سے خود سیدنا داؤد علیہ السلام مراد ہیں۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1087]
Al Adab al Mufrad Hadith 1087 in Urdu