الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
619. بَابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً
جس زمین پر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو فوت کرنا چاہتا ہے وہاں اسے کوئی کام ڈال دیتا ہے
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً.“
سیدنا ابو عزه یسار بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی زمین میں فوت کرنا چاہتا ہے تو اس جگہ اسے کوئی کام ڈال دیتا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث: «صحيح: أنظر الحديث، رقم: 780»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 1282 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 1282
فوائد ومسائل:
کسی انسان کو معلوم نہیں کہ اس نے کہاں فوت ہونا ہے۔ اللہ کی تقدیر اسے اس جگہ لے جاتی ہے جہاں اس کی موت لکھی ہوتی ہے۔ موت کا وقت اور جگہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾ (لقمان:۳۴)
”اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں فوت ہوگا۔“
کسی انسان کو معلوم نہیں کہ اس نے کہاں فوت ہونا ہے۔ اللہ کی تقدیر اسے اس جگہ لے جاتی ہے جہاں اس کی موت لکھی ہوتی ہے۔ موت کا وقت اور جگہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾ (لقمان:۳۴)
”اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں فوت ہوگا۔“
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1282]
Al Adab al Mufrad Hadith 1282 in Urdu