🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
192. باب الشحناء
دشمنی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 411
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلاَّ رَجُلٌ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ‏:‏ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور ہر اس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، سوائے اس آدمی کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو، تو فرشتوں کو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب البر و الصلة: 35، 2565 و أبوداؤد: 4916 و الترمذي: 2023 - انظر الإرواء: 948، 949»
قال الشيخ الألباني: صحيح

الادب المفرد کی حدیث نمبر 411 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 411
فوائد ومسائل:
(۱)لڑائی جھگڑا اور اختلاف ہونا فطری بات ہے لیکن اسے کینے کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے اس لیے شریعت نے ناراضی کی حد تین دن رکھی ہے۔ اس سے زیادہ ناراضی سے دل میں نفرت و عداوت پختہ ہو جاتی ہے جو اللہ کی رحمت سے دوری کا باعث ہے۔
(۲) قطع تعلقی کو شرک کے ساتھ ذکر کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح شرک دخول جنت میں رکاوٹ ہے اسی طرح قطع تعلقی بھی کبیرہ گناہ اور جنت میں جانے سے رکاوٹ ہے۔ اس لیے ناراضی کے بعد جلد صلح کر لینی چاہیے۔ شرک کے ساتھ قطع تعلقی کو ذکر کرنے سے اس کی سنگینی واضح ہوتی ہے تاہم شرک کی وجہ سے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں اور مشرک ہمیشہ ہمیشہ کا جہنمی ہے جبکہ قطع تعلقی کرنے والے کا اللہ نے گناہ معاف نہ کیا تو وہ جہنم میں جائے گا پھر اپنے ایمان کی وجہ سے کسی نہ کسی وقت وہاں سے رہائی پا لے گا۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 411]

Al Adab al Mufrad Hadith 411 in Urdu