الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
255. بَابُ مَنْ أَطْعَمَ أَخًا لَهُ فِي اللهِ
دینی بھائی کو کھانا کھلانے کا بیان
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لأَنْ أَجْمَعَ نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِي عَلَى صَاعٍ أَوْ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى سُوقِكُمْ فَأُعْتِقَ رَقَبَةً.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے مسلمان بھائیوں کو اکٹھا کر کے ایک یا دو ٹوپے غلے کا کھانا کھلاؤں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں تمہارے بازار کی طرف جاؤں اور ایک غلام آزاد کروں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن وهب فى الجامع: 226 و ابن أبى الدنيا فى الإخوان: 199»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
الادب المفرد کی حدیث نمبر 566 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 566
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کھانا کھلانے کی فضیلت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے، خصوصاً ضرورت مند مسلمانوں کو کھانا کھلانا بہت فضیلت والا کام ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کھانا کھلانے کی فضیلت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے، خصوصاً ضرورت مند مسلمانوں کو کھانا کھلانا بہت فضیلت والا کام ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 566]
Al Adab al Mufrad Hadith 566 in Urdu