الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
326. بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا زُكِّيَ
جب کسی کی پارسائی بیان کی جائے تو وہ کیا کہے
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ قَالَ لأَبِي مَسْعُودٍ، أَوْ أَبُو مَسْعُودٍ قَالَ لأَبِي عَبْدِ اللهِ: مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي (زَعَمَ) ؟ قَالَ: ”بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ.“
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبداللہ نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے کہا یا سیدنا ابو مسعود نے سیدنا ابو عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زعم (اس کا گمان ہے) کے بارے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آدمی کی بری سواری ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى (قول الرجل) زعموا: 4972 - انظر الصحيحة: 866»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب المفرد کی حدیث نمبر 762 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 762
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی بات کا یقین نہ ہو اس بات کے کرنے سے گریز کیا جائے۔ جب بندے کو حقیقت حال کا علم ہی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ خاموش رہے۔ اس طرح کا انداز اختیار کرے کہ لوگ یہ کہتے ہیں، اس کا خیال ہے، کسی نے کہا ہے۔ اس طرح کی بے سروپا گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔
مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی بات کا یقین نہ ہو اس بات کے کرنے سے گریز کیا جائے۔ جب بندے کو حقیقت حال کا علم ہی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ خاموش رہے۔ اس طرح کا انداز اختیار کرے کہ لوگ یہ کہتے ہیں، اس کا خیال ہے، کسی نے کہا ہے۔ اس طرح کی بے سروپا گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 762]
Al Adab al Mufrad Hadith 762 in Urdu