الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
326. بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا زُكِّيَ
جب کسی کی پارسائی بیان کی جائے تو وہ کیا کہے
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ قَالَ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي ”زَعَمُوا؟“ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ”بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ“، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ”لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ.“
سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے ابو مسعود! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلمہ ”زعموا“ (ان کا خیال ہے) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ کلمہ آدمی کی بدترین سواری ہے۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره: الإرواء: 201/8، 575 - ن»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
الادب المفرد کی حدیث نمبر 763 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 763
فوائد ومسائل:
اس روایت میں مسلمان پر لعنت کرنے کی شناعت کا ذکر ہے کہ جس پر لعنت کی جائے اگر وہ اس کا مستحق نہیں تو اس کا گناہ قتل کے برابر ہے۔
اس روایت میں مسلمان پر لعنت کرنے کی شناعت کا ذکر ہے کہ جس پر لعنت کی جائے اگر وہ اس کا مستحق نہیں تو اس کا گناہ قتل کے برابر ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 763]
Al Adab al Mufrad Hadith 763 in Urdu