🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
354. باب‏:‏ كان النبى صلى الله عليه وسلم يعجبه الاسم الحسن
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے نام پسند تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمْلُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”مَنْ يَسُوقُ إِبِلَنَا هَذِهِ‏؟“‏ أَوْ قَالَ‏:‏ ”مَنْ يُبَلِّغُ إِبِلَنَا هَذِهِ‏؟“‏ قَالَ رَجُلٌ‏:‏ أَنَا، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ فُلاَنٌ، قَالَ‏:‏ ”اجْلِسْ“، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ فُلاَنٌ، فقَالَ‏:‏ ”اجْلِسْ“، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ نَاجِيَةُ، قَالَ‏:‏ ”أَنْتَ لَهَا، فَسُقْهَا‏.‏“
سیدنا ابو ہردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے یہ اونٹ کون ہانکے گا؟ یا فرمایا: ہمارے ان اونٹوں کو کون پہنچائے گا؟ ایک آدمی نے عرض کیا: میں یہ خدمت سر انجام دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ پھر ایک اور شخص اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میرا نام ناجیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کام کے لیے ہو، تم ان اونٹوں کو لے جاؤ۔ [الادب المفرد/كتاب الأسماء/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن أبى عاصم فى الآحاد: 2370 و الروياني فى مسنده: 1479 و الطبراني فى الكبير: 353/22 و الحاكم: 276/4 - انظر الضعيفة: 4804»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

الادب المفرد کی حدیث نمبر 812 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 812
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم اچھے نام سے نیک شگون لینا صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر سہیل بن عمرو کی آمد سے اچھا شگون لیا تھا اور سہیل کے نام کی مناسبت سے فرمایا تھا کہ اب تمہارے لیے معاملہ آسان کر دیا گیا۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 812]

Al Adab al Mufrad Hadith 812 in Urdu