سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب في الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ:
حائضہ عورت کے روزہ قضا کرنے اور نماز قضا نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1022
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَقْضِي مَا تَرَكْتُ مِنْ صَلاتِي فِي الْحَيْضِ عِنْدَ الطُّهْرِ؟، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: "أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ، فَلَا يَأْمُرُنَا بِالْقَضَاءِ".
عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور عرض کیا کہ طہارت کے بعد میں نمازوں کی قضا کروں جو ایام حیض میں میں نے چھوڑ دی تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم میں سے کسی کو حیض آتا، پھر طہارت ہوتی لیکن آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں نماز کی قضا پڑھنے کا حکم نہ دیتے تھے۔ (یعنی اگر حکم ہوتا تو ہم ضرور ان نمازوں کی قضا کرتے۔ حروریہ کا مطلب گزر چکا ہے۔) [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الليث بن أبي سليم ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1026] »
لیث ابن ابی سلیم کی وجہ سے اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے، جیسا کہ (1016) وغیرہ میں گذر چکا ہے۔
لیث ابن ابی سلیم کی وجہ سے اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے، جیسا کہ (1016) وغیرہ میں گذر چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الليث بن أبي سليم ولكن الحديث متفق عليه
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1022 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق