سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. باب استبراء الأمة:
لونڈی کے استبراء کا بیان
حدیث نمبر: 1215
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "بِشَهْرٍ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ: بِأَيِّهِمَا تَقُولُ؟، قَالَ:"ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ أَوْثَقُ، وَشَهْرٌ يَكْفِي".
یحییٰ بن بشر سے مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: (اس کی مدت) ایک مہینہ ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: تین مہینے احتیاطی مضبوط مدت ہے اور ایک مہینہ بھی کافی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 1219] »
اس روایت کے رواۃ ثقہ ہیں۔
اس روایت کے رواۃ ثقہ ہیں۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1210 سے 1215)
لونڈی کی مدتِ استبراء میں یہ دو قول مروی ہیں، کچھ علماء نے کہا آزاد عورت کی طرح تین ماہ کی مدت ہے، کچھ علماء نے کہا لونڈی ہونے کے ناتے اس پر حرہ کی آدھی مدت یعنی 45 دن کی مدت استبراء ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تین مہینے بہتر ہے اور ایک مہینہ کافی ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ حاملہ تو نہیں ہے، ایسی صورت میں اس سے ہمبستری جائز نہیں۔
نیز یہ کہ اتنی مدت میں اس لونڈی کے رحم کی صفائی ہو جائے گی اور دوسرے انسان کے جراثیم لگنے کا خطرہ بإذن اللہ نہیں رہے گا۔
واللہ اعلم
لونڈی کی مدتِ استبراء میں یہ دو قول مروی ہیں، کچھ علماء نے کہا آزاد عورت کی طرح تین ماہ کی مدت ہے، کچھ علماء نے کہا لونڈی ہونے کے ناتے اس پر حرہ کی آدھی مدت یعنی 45 دن کی مدت استبراء ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تین مہینے بہتر ہے اور ایک مہینہ کافی ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ حاملہ تو نہیں ہے، ایسی صورت میں اس سے ہمبستری جائز نہیں۔
نیز یہ کہ اتنی مدت میں اس لونڈی کے رحم کی صفائی ہو جائے گی اور دوسرے انسان کے جراثیم لگنے کا خطرہ بإذن اللہ نہیں رہے گا۔
واللہ اعلم