سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب كراهية الفتيا:
فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 126
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "أُحَرِّجُ بِاللَّهِ عَلَى رَجُلٍ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ بَيَّنَ مَا هُوَ كَائِنٌ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: میں اس شخص کو گنہگار سمجھتا ہوں جو فرضی مسئلہ پوچھے کیونکہ جو چیز ظہور پذیر ہونے والی ہے اسے الله تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 126] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1807] ، [الفقيه والمتفقه 7/2] ، [فتح الباري 266/13]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1807] ، [الفقيه والمتفقه 7/2] ، [فتح الباري 266/13]
وضاحت: (تشریح احادیث 123 سے 126)
سابقہ آثار جلیل القدر صحابہ کرام کے ہیں اور ان سے فرضی مسائل پوچھنے کی مذمت ظاہر ہوتی ہے۔
اس اثر سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یقین و اعتماد اور فہم و فراست ظاہر ہوتا ہے، جو چیز ظہور پذیر ہونے والی ہے اس کو الله تعالیٰ نے وضاحت سے بیان فرما دیا ہے، اور جس سے خاموشی اختیار کی، وضاحت نہیں کی اس کے بارے میں پوچھا بھی نہ جائے، یہی بات «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾ [المائده: 101] » اور حدیث شریف: «دَعُونِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ عَلَيْهِ.» سے واضح ہوتی ہے۔
سابقہ آثار جلیل القدر صحابہ کرام کے ہیں اور ان سے فرضی مسائل پوچھنے کی مذمت ظاہر ہوتی ہے۔
اس اثر سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یقین و اعتماد اور فہم و فراست ظاہر ہوتا ہے، جو چیز ظہور پذیر ہونے والی ہے اس کو الله تعالیٰ نے وضاحت سے بیان فرما دیا ہے، اور جس سے خاموشی اختیار کی، وضاحت نہیں کی اس کے بارے میں پوچھا بھی نہ جائے، یہی بات «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾ [المائده: 101] » اور حدیث شریف: «دَعُونِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ عَلَيْهِ.» سے واضح ہوتی ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 126 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عمر بن الخطاب العدوي