سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب فضل من يصل الصف فى الصلاة
نماز میں جو شخص صف کی تکمیل کرے اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1298
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ لَا تَخْتَلِفُ قُلُوبُكُمْ". قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ:"إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ"..
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں برابر رکھو تاکہ تمہارے دلوں میں اختلاف نہ پڑ جائے“، راوی نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بیشک اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں پہلی صف والوں پر“، یا یہ کہا: ”پہلی صفوں والوں پر۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1299] »
یہ حدیث صحیح ہے دیکھئے: [أبوداؤد 663/659] ، [نسائي 810] ، [ابن حبان 2157] ، [موارد الظمآن 386]
یہ حدیث صحیح ہے دیکھئے: [أبوداؤد 663/659] ، [نسائي 810] ، [ابن حبان 2157] ، [موارد الظمآن 386]
وضاحت: (تشریح حدیث 1297)
یعنی صف کو پورا کرنا باعثِ ثواب ہے، ایک حدیث میں ہے: جو شخص صف ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے ملا دے گا، اور جو صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کو کاٹ دے گا۔
دیکھئے: [أبوداؤد 661] ، [نسائي 822] ، اس حدیث میں پہلی صف میں کھڑے ہونے والوں کی فضیلت ہے۔
یعنی صف کو پورا کرنا باعثِ ثواب ہے، ایک حدیث میں ہے: جو شخص صف ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے ملا دے گا، اور جو صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کو کاٹ دے گا۔
دیکھئے: [أبوداؤد 661] ، [نسائي 822] ، اس حدیث میں پہلی صف میں کھڑے ہونے والوں کی فضیلت ہے۔
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عوسجة الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري