سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب من هاب الفتيا وكره التنطع والتبدع:
ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: "إِنَّ الْعَالِمَ يَدْخُلُ فِيمَا بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ عِبَادِهِ، فَلْيَطْلُبْ لِنَفْسِهِ الْمَخْرَجَ".
ابن المنکدر نے کہا: عالم (فتوے کے ذریعے) اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان مداخلت کرتا ہے، اس لئے اسے اپنے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے (یعنی: فتویٰ سازی سے احتراز کرنا چاہئے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى ابن المنكدر، [مكتبه الشامله نمبر: 139] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابونعیم نے [الحلية 152/3] میں اور خطیب نے [الفقيه والمتفقه 1088، 1089] میں صحیح سند سے ذکر کیا ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابونعیم نے [الحلية 152/3] میں اور خطیب نے [الفقيه والمتفقه 1088، 1089] میں صحیح سند سے ذکر کیا ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر | ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن المنكدر القرشي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أحمد بن الحجاج الشيباني، أبو العباس أحمد بن الحجاج الشيباني ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن المنكدر القرشي