سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب في عَقْصِ الشَّعْرِ:
جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1419
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ، فَجَعَلَ يَحُلُّهُ، وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
کریب ابن عباس کے آزاد کردہ غلام نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو پیچھے کی طرف بالوں کا جوڑا بنائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور اس جوڑے کو کھولنے لگے، ایک اور شخص نے بھی ان کی تائید کی پھر وہ (عبدالله بن حارث) جب نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عرض کیا: کیا بات ہے آپ نے ایسا میرے سر کے ساتھ کیوں کیا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”(جو شخص جوڑا باندھ کر نماز پڑھے) اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کسی کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں اور وہ نماز پڑھے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1421] »
اس روایت کی سند عبدالله بن صالح کاتب اللیث کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 492] ، [أبوداؤد 647] ، [نسائي 1115] ، [ابن حبان 2280]
اس روایت کی سند عبدالله بن صالح کاتب اللیث کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 492] ، [أبوداؤد 647] ، [نسائي 1115] ، [ابن حبان 2280]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1419 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي