سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. باب النهي عن استنشاد الضالة فى المسجد والشرى والبيع:
گم شدہ چیز کی مسجد میں تلاش و اعلان اور خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1439
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي زَيْدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ، أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ الضَّالَّةَ، فَقُولُوا: لَا أَدَّى اللَّهُ عَلَيْكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو کہو: الله تمہاری تجارت میں نفع نہ بخشے، اور جب کسی کو گم شدہ چیز ڈھونڈتے اور مسجد میں اس کا اعلان کرتے دیکھو تو کہو: الله کرے تیری چیز نہ ملے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1439]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1441] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 568] ، [أبوداؤد 473] ، [ابن ماجه 768] ، [ابن حبان 1650] ، [موارد الظمآن 313]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 568] ، [أبوداؤد 473] ، [ابن ماجه 768] ، [ابن حبان 1650] ، [موارد الظمآن 313]
وضاحت: (تشریح حدیث 1438)
مسلم شریف کی روایت میں ہے: مسجدیں اس لئے نہیں بنائی جاتی ہیں کہ اس میں خرید و فروخت یا گم شده چیزیں تلاش کی جائیں۔
معلوم ہوا کہ مسجد میں یہ افعال و اعمال درست نہیں ہیں اور جو شخص ایسا اعلان کرے تو اس کے لئے بددعا کے طور پر مذکورہ الفاظ کہنا جائز ہے۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے: مسجدیں اس لئے نہیں بنائی جاتی ہیں کہ اس میں خرید و فروخت یا گم شده چیزیں تلاش کی جائیں۔
معلوم ہوا کہ مسجد میں یہ افعال و اعمال درست نہیں ہیں اور جو شخص ایسا اعلان کرے تو اس کے لئے بددعا کے طور پر مذکورہ الفاظ کہنا جائز ہے۔
الرواة الحديث:
محمد بن عبد الرحمن القرشي ← أبو هريرة الدوسي