علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب النهي عن الاشتباك إذا خرج إلى المسجد:
مسجد جاتے ہوئے انگلیوں سے کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1442
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ، قَالَ: أَدْرَكَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ بِالْبَلَاطِ، وَأَنَا مُشَبِّكٌ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَا يُشَبِّكُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
ابوثمامہ حناط نے کہا: مجھ کو سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بلاط پر پا لیا (مسجد جاتے ہوئے) اور میں انگلیوں میں انگلیاں داخل کئے ہوئے تھا، تو انہوں نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی وضو کر کے مسجد میں نماز کے قصد سے نکلے تو تشبیک نہ کرے (گویا کہ وہ نماز کے اندر ہے)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي ثمامة الحناط، [مكتبه الشامله نمبر: 1444] »
یہ حدیث حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 562] ، [ترمذي 386] ، [ابن حبان 2039] ، [موارد الظمآن 315، 316]
یہ حدیث حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 562] ، [ترمذي 386] ، [ابن حبان 2039] ، [موارد الظمآن 315، 316]
وضاحت: (تشریح حدیث 1441)
اشتباک یا تشبیک انگلیوں میں انگلیاں داخل کرنے کو اور انگلیاں چٹخانے کو کہتے ہیں۔
اشتباک یا تشبیک انگلیوں میں انگلیاں داخل کرنے کو اور انگلیاں چٹخانے کو کہتے ہیں۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1442 in Urdu
أبو ثمامة القماح ← كعب بن عجرة الأنصاري