الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
136. باب فضل صلاة الغداة وصلاة العصر:
نماز فجر اور عصر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1464
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ، فَهُوَ فِي جِوَارِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي جَارِهِ، وَمَنْ صَلَّى الْعَصْرَ، فَهُوَ فِي جِوَارِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي جَارِهِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِذَا أُمِّنَ وَلَمْ يَفِ، فَقَدْ غَدَرَ وَأَخْفَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے فجر کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کے جوار (پڑوس یا ذمے داری اور عہد و پیمان) میں ہے، پس تم اللہ کے عہد میں اس کے پیمان کو نہ توڑو، اور جو شخص عصر کی نماز پڑھ لے تو وہ بھی اللہ کے جوار میں ہے، پس تم اللہ کے جوار کو نہ توڑو۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے «اخفر» کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: جب انسان مامون ہو جائے اور عہد کو پورا نہ کرے تو گویا اس نے خیانت کی اور عہد کو توڑ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إن كان جد إبراهيم سالما البراد، [مكتبه الشامله نمبر: 1466] »
اس روایت کی سند جید ہے، اور ان الفاظ میں یہ روایت امام دارمی رحمہ اللہ کے انفرادات میں سے ہے، لیکن اس کے ہم معنی صحیح حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 657] ، [ترمذي 222] ، [ابن ماجه 2945] ، [الطيالسي 938] ، [أحمد 312/4 وغيرهم]
اس روایت کی سند جید ہے، اور ان الفاظ میں یہ روایت امام دارمی رحمہ اللہ کے انفرادات میں سے ہے، لیکن اس کے ہم معنی صحیح حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 657] ، [ترمذي 222] ، [ابن ماجه 2945] ، [الطيالسي 938] ، [أحمد 312/4 وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 1461 سے 1464)
اس حدیث سے نمازِ فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوئی۔
مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ہیں: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ.» ”جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔
“ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے، جو اللہ کی ذمہ داری میں ہو اسے کون چھو سکتا ہے، اور کون نقصان و تکلیف یا ضرر پہنچا سکتا ہے؟
اس حدیث سے نمازِ فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوئی۔
مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ہیں: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ.» ”جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔
“ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے، جو اللہ کی ذمہ داری میں ہو اسے کون چھو سکتا ہے، اور کون نقصان و تکلیف یا ضرر پہنچا سکتا ہے؟
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥هلال بن يزيد المازني، أبو مصعب هلال بن يزيد المازني ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إبراهيم بن أبي أسيد البراد إبراهيم بن أبي أسيد البراد ← هلال بن يزيد المازني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب سليمان بن بلال القرشي ← إبراهيم بن أبي أسيد البراد | ثقة | |
👤←👥يحيى بن حسان البكري، أبو زكريا يحيى بن حسان البكري ← سليمان بن بلال القرشي | ثقة إمام |
هلال بن يزيد المازني ← أبو هريرة الدوسي