🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
159. باب النهي أن يسجد لأحد:
کسی کے لئے سجدہ کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1503
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فَلِأَسْجُدَ لَكَ. قَالَ: "لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدُ لِزَوْجِهَا".
ابوبریدہ نے روایت کیا، ان کے والد نے کہا: ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی شخص کو کسی کا سجده کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 1505] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اور اس کو امام حاکم نے [المستدرك 172/4] میں ذکر کیا ہے۔ لیکن دیگر شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے، جیسا کہ اوپر تخریجِ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1501 سے 1503)
یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنا یا کسی اور کا سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اللہ کے سجدے سے روکا اور اللہ کے سامنے سجدے کی دعوت دی، اس لئے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی نبی، ولی، شمس و قمر، حجر و شجر کسی کے سامنے جھکنا، اس کا سجدہ کرنا جائز نہیں، بلکہ یہی شرکِ اکبر ہے جس کو مٹانے کے لئے پیغمبرِ اسلام مبعوث کئے گئے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏﴿لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلّٰهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ﴾ [حم السجده: 37] » تم شمس و قمر کو سجدہ نہ کرو بلکہ سجدہ اس ذات پاک کو کرو جس نے انہیں پیدا فرمایا۔
دوسری آیت میں ہے: «﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ...﴾ [الحج: 18] » کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ اللہ کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں سب آسمان والے اور سب زمینوں والے، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور بہت سے انسان بھی، اور بہت سے وہ لوگ بھی جن پر عذاب ثابت ہو چکا .....، یعنی ساری ہی کائنات اللہ کے حضور سجدہ ریز ہے پھر انسان کیوں ان کے لئے سجدہ کرے جو خود الله تعالیٰ کا سجدہ کرتے ہیں۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥صالح بن حيان القرشي
Newصالح بن حيان القرشي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ضعيف الحديث
👤←👥حبان بن علي العنزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newحبان بن علي العنزي ← صالح بن حيان القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن يزيد الحزامي
Newمحمد بن يزيد الحزامي ← حبان بن علي العنزي
صدوق حسن الحديث