🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
170. باب التغني بالقرآن:
قرآن پاک خوش الحانی سے پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1530
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُرِيدُ بِهِ الِاسْتِغْنَاءَ.
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسی محبت (و توجہ) سے کسی چیز کو نہیں سنتا جیسے کسی نبی کو خوش الحانی سے قرآن پڑھتے سنتا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «تغني بالقرآن» سے مراد استغناء ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1532] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ تخریج (1527) نمبر پرگذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1526 سے 1530)
«(مَا أَذِنَ اللّٰهُ)» اذن اور سمع دونوں کے معنی لغت میں سننے کے ہیں اور یہ الله تعالیٰ کی صفت ہے اور مومن کو اسی پر بلا کیف مثل اور صفات کے ایمان لانا چاہئے (علامہ وحیدالزماں، شرح مسلم)، اور «من لم يتغن بالقرآن» کی تفسیر میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
بعض نے کہا: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے، مد و شد کی رعایت نہ کرے، بشرطیکہ کوئی حرف اپنی حد سے کم زیادہ نہ ہو، اور راگنی کو دخل نہ دے (علامہ وحیدالزماں، شرح ابی داؤد)، ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: قرآن مجید کی تلاوت میں سب سے زیادہ پسندیدہ آواز کون سی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس تلاوت سے اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا ہو، یہ بھی روایت ہے کہ قرآن مجید کو اہلِ عرب کے لہجے میں پڑھو، گانے والوں اور اہلِ کتاب کے لب و لہجہ سے قرآن پاک کی تلاوت سے پرہیز کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایک قوم ایسی پیدا ہوگی جو قرآن مجید کو گویّوں کی طرح گا گا کر پڑھے گی، یہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی، ان کے دل فتنے میں مبتلا ہوں گے۔
ایسی تلاوت قطعاً ممنوع ہے۔
قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ متوسط آواز سے پڑھنا مسنون ہے۔
خوش الحانی اور تغنی بالقرآن یہی ہے، گا کر پڑھنے کو مالکیہ نے حرام اور شافعیہ و حنفیہ نے مکروہ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حرف کی ادائیگی میں خلل نہ آئے، اگر حرف میں تغیر ہو جائے تو بالاجماع حرام ہے (شرح بخاری، مولانا راز صاحب رحمہ اللہ)۔


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي خلف السلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي خلف السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 1530 in Urdu