🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب من هاب الفتيا وكره التنطع والتبدع:
ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانَانِ، فَقَالَ: أَكَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ؟، قَالَ: لَمْ يَكُنْ بَعْدُ، فَقَالَ: اتْرُكْ بَلِيَّتَهُ حَتَّى تَنْزِلَ، قَالَ: فَدَلَسْنَا لَهُ رَجُلًا، فَقَالَ: قَدْ كَانَ، فَقَالَ "يُطْعِمُ عَنْ الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا، لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ".
عمرو بن میمون نے اپنے والد سے انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو دو مرتبہ رمضان کے مہینے پائے اور (روزہ نہ رکھے)، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہو چکا ہے یا نہیں؟ میمون نے کہا: نہیں، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایسی نزول سے پہلی بلا کو جانے دو (یعنی جو چیز واقع نہیں ہوئی اس کے بارے میں سوال نہ کرو)، لہٰذا ہم نے ایک شخص کے بارے میں جھوٹ موٹ کہا کہ اسے یہ مسئلہ درپیش ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ پہلے رمضان کے تیس روزوں کے بدلے میں مسکینوں کو کھانا کھلائے ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 156] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن البيهقي 253/4] ، [مصنف عبدالرزاق 7628] ، [سنن دارقطني 196/2] ، [المجموع 363/6] ، [معرفة السنن والآثار 306/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 150 سے 156)
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلاف کرام فرضی مسائل میں نہیں الجھتے تھے اور صرف پیش آمده مسائل ہی کا جواب دیتے تھے اور اختلافی مسائل میں فتویٰ دینے سے بھی گریز کرتے تھے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نیک، راست باز، توفیق و صحیح سوجھ بوجھ والے بندے ہمیشہ موجود رہیں گے۔
( «جعلنا اللّٰه واياكم منهم.» آمین)
ایسا شخص جس نے بلا عذرِ شرعی دو بار رمضان کے روزے نہیں رکھے اس پر کفارہ اور قضا دونوں ہے، یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور ساٹھ دن کے روزے رکھے۔
دیکھئے: [المغني لابن قدامة 401/4] ۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥ميمون بن مهران الجزري، أبو أيوب
Newميمون بن مهران الجزري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥عمرو بن ميمون الجزري، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن ميمون الجزري ← ميمون بن مهران الجزري
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← عمرو بن ميمون الجزري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بشر بن الحكم العبدي، أبو عبد الرحمن
Newبشر بن الحكم العبدي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 156 in Urdu