سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب الفتيا وما فيه من الشدة:
فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَنْ أَحْدَثَ رَأْيًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَمْ تَمْضِ بِهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَدْرِ عَلَى مَا هُوَ مِنْهُ إِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جو بات کتاب اللہ میں نہیں اور کسی نے اپنی رائے سے کہی، اور وہ احادیث رسول میں سے بھی نہیں، تو اسے معلوم نہیں کہ جب وہ اللہ عزوجل سے ملاقات کرے گا تو اسے اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إذا كان عبدة سمعه من ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 160] »
یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [البدع 94] ، [الأحكام 782/6] ، [المدخل 190] ، [الفقيه 183/1]
یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [البدع 94] ، [الأحكام 782/6] ، [المدخل 190] ، [الفقيه 183/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 158 سے 160)
قرآن و حدیث کو دیکھے بغیر بلا دلیل کے فتویٰ دینا حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دینے کے مترادف ہے۔
قرآن و حدیث کو دیکھے بغیر بلا دلیل کے فتویٰ دینا حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دینے کے مترادف ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 160 in Urdu
عبدة بن أبي لبابة الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي