یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
209. باب كم الوتر:
وتر کتنی رکعت ہے؟
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَتْ صَلَاتُهُ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ، فَيُسَلِّمَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعتیں تھیں جن میں پانچ رکعت وتر پڑھتے اور بیٹھتے نہیں، بس آخری رکعت میں تشہد کرتے اور سلام پھیر دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1622] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1140] ، [مسلم 736] ، [أبوداؤد 1338] ، [ترمذي 459]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1140] ، [مسلم 736] ، [أبوداؤد 1338] ، [ترمذي 459]
وضاحت: (تشریح حدیث 1619)
یعنی پانچ رکعت ایک تشہد سے پڑھتے، اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تشہد پڑھتے اور سلام پھیرتے۔
یعنی پانچ رکعت ایک تشہد سے پڑھتے، اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تشہد پڑھتے اور سلام پھیرتے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون جعفر بن عون القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة |
Sunan Darmi Hadith 1620 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق