سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب النهي عن المسألة:
مانگنے، سوال کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1688
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ:"يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی عطا فرمایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال بڑا سرسبز و شیریں ہے، لیکن جو شخص اس کو اپنے دل کو سخی رکھ کر لے گا تو اس کے مال میں برکت ہو گی، اور جو لالچ کے ساتھ اس مال کو لے گا تو اس کی دولت میں کچھ بھی برکت نہ ہو گی، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1690] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [بخاري 1472] ، [مسلم 1035] ، [نسائي 2600] ، [ابن حبان 3220] ، [الحميدي 563]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [بخاري 1472] ، [مسلم 1035] ، [نسائي 2600] ، [ابن حبان 3220] ، [الحميدي 563]
وضاحت: (تشریح حدیث 1687)
اس حدیث میں حکیمِ انسانیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قناعت پسند اور حریص کی مثال بیان فرمائی کہ جو بھی کوئی دنیاوی دولت کے سلسلہ میں قناعت سے کام لے گا اور حرص اور لالچ کی بیماری سے بچے گا اس کے لئے برکتوں کے دروازے کھلیں گے اور تھوڑا مال بھی اس کے لئے کافی ہو سکے گا، اس کی زندگی بڑے ہی سکون اور اطمینان کی زندگی ہوگی۔
اور جو شخص حرص کی بیماری اور لالچ کے بخار میں مبتلا ہوگا اس کا پیٹ بھر ہی نہیں سکتا ہے خواہ اس کو ساری دنیا کی دولت حاصل ہو جائے وہ پھر بھی اسی چکر میں رہے گا کہ کسی نہ کسی طرح سے اور زیادہ مال حاصل کیا جائے، ایسے طماع لوگ نہ اللہ کے نام پر خرچ کرنا جانتے ہیں نہ مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
(راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کے بعد سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کیا حالانکہ لمبی عمر پائی اور 64ھ میں 120 سال کی عمر میں انتقال ہوا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو ہمیشہ دل سے لگائے رکھا، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہنا پڑا: لوگو! گواہ رہنا میں حکیم بن حزام کو مال دیتا ہوں وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
رضی اللہ عنہم۔
اس حدیث میں حکیمِ انسانیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قناعت پسند اور حریص کی مثال بیان فرمائی کہ جو بھی کوئی دنیاوی دولت کے سلسلہ میں قناعت سے کام لے گا اور حرص اور لالچ کی بیماری سے بچے گا اس کے لئے برکتوں کے دروازے کھلیں گے اور تھوڑا مال بھی اس کے لئے کافی ہو سکے گا، اس کی زندگی بڑے ہی سکون اور اطمینان کی زندگی ہوگی۔
اور جو شخص حرص کی بیماری اور لالچ کے بخار میں مبتلا ہوگا اس کا پیٹ بھر ہی نہیں سکتا ہے خواہ اس کو ساری دنیا کی دولت حاصل ہو جائے وہ پھر بھی اسی چکر میں رہے گا کہ کسی نہ کسی طرح سے اور زیادہ مال حاصل کیا جائے، ایسے طماع لوگ نہ اللہ کے نام پر خرچ کرنا جانتے ہیں نہ مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
(راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کے بعد سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کیا حالانکہ لمبی عمر پائی اور 64ھ میں 120 سال کی عمر میں انتقال ہوا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو ہمیشہ دل سے لگائے رکھا، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہنا پڑا: لوگو! گواہ رہنا میں حکیم بن حزام کو مال دیتا ہوں وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
رضی اللہ عنہم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حكيم بن حزام القرشي، أبو خالد | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← حكيم بن حزام القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة مأمون | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي | ثقة |
عروة بن الزبير الأسدي ← حكيم بن حزام القرشي