الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الشهر تسع وعشرون:
مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1728
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهِ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَاقْدُرُوا لَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ (کبھی) انتیس کا بھی ہوتا ہے اس لئے (انتیس دن پورے ہونے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اور نہ چاند دیکھے بنا روزہ موقوف کرو، اگر ابر ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1732] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1914] ، [مسلم 1082] ، [أبوداؤد 2320] ، [أبويعلی 5999] ، [ابن حبان 3586]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1914] ، [مسلم 1082] ، [أبوداؤد 2320] ، [أبويعلی 5999] ، [ابن حبان 3586]
وضاحت: (تشریح حدیث 1727)
لمعات میں ملا علی قاری نے اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے: جمہور علمائے سلف اور خلف کا اسی حدیث پر عمل ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں لفظ «فَاقْدُرُوْا لَهُ» سے حسابِ نجوم کا ضبط مراد ہے یہ قول درست نہیں ہے۔
آج کل تقویم یا جنتری میں جو تاریخ بتلائی جاتی ہے گرچہ اس کے مرتب کرنے والے پوری کوشش کرتے ہیں مگر شرعی امور کے لئے محض ان کی رائے اور شمار پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، خاص طور سے رمضان اور عیدین کے لئے رؤیتِ ہلال یا دو معتبر گواہوں کی شہادت ضروری ہے (داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
لمعات میں ملا علی قاری نے اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے: جمہور علمائے سلف اور خلف کا اسی حدیث پر عمل ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں لفظ «فَاقْدُرُوْا لَهُ» سے حسابِ نجوم کا ضبط مراد ہے یہ قول درست نہیں ہے۔
آج کل تقویم یا جنتری میں جو تاریخ بتلائی جاتی ہے گرچہ اس کے مرتب کرنے والے پوری کوشش کرتے ہیں مگر شرعی امور کے لئے محض ان کی رائے اور شمار پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، خاص طور سے رمضان اور عیدین کے لئے رؤیتِ ہلال یا دو معتبر گواہوں کی شہادت ضروری ہے (داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي