سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب فيمن يصبح صائما تطوعا ثم يفطر:
کوئی شخص نفلی روزہ رکھے پھر صبح کو افطار کر لے
حدیث نمبر: 1773
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كَانَ قَضَاءَ رَمَضَانَ، فَصُومِي يَوْمًا آخَرَ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا، فَإِنْ شِئْتِ، فَاقْضِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ، فَلَا تَقْضِيهِ".
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ روزے سے تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا برتن لایا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، پھر وہ برتن سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، انہوں نے بھی پانی پی لیا (پھر عرض کیا: میرا روزہ تھا اور میں نے افطار کر لیا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ روزہ رمضان کے روزے کی قضا کا تھا تو دوسرے دن روزہ رکھ لینا، اور اگر نفلی روزہ تھا تو جی چاہے تو قضا کر لینا دل نہ چاہے تو قضا نہ کرنا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1773]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف هارون مجهول، [مكتبه الشامله نمبر: 1776] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن کئی طرق سے مروی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 343/6] ، [طيالسي 916] ، [أبوداؤد 2456] ، [ترمذي 731] ، [نسائي فى الكبرى 3305] ، [دارقطني 174/2، 12] ، [شرح معاني الآثار 107/2، وغيرهم]
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن کئی طرق سے مروی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 343/6] ، [طيالسي 916] ، [أبوداؤد 2456] ، [ترمذي 731] ، [نسائي فى الكبرى 3305] ، [دارقطني 174/2، 12] ، [شرح معاني الآثار 107/2، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1772)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قضاء روزے کو اگر توڑا ہے تب اس کی قضا کے طور پر دوسرا روزہ رکھنا ہوگا، اور اگر کوئی نفلی روزہ توڑ دے تو اس کو اختیار ہے چاہے تو اس کی جگہ روزہ رکھے چاہے نہ رکھے، لیکن اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، اہل الحدیث اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ نفلی روزے کو توڑنے پر اس کی قضا کر لینی چاہیے، امام شافعی و امام احمد و امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہم نے کہا کہ واجب نہیں، قضا مستحب ہے۔
(واللہ اعلم)۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قضاء روزے کو اگر توڑا ہے تب اس کی قضا کے طور پر دوسرا روزہ رکھنا ہوگا، اور اگر کوئی نفلی روزہ توڑ دے تو اس کو اختیار ہے چاہے تو اس کی جگہ روزہ رکھے چاہے نہ رکھے، لیکن اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، اہل الحدیث اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ نفلی روزے کو توڑنے پر اس کی قضا کر لینی چاہیے، امام شافعی و امام احمد و امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہم نے کہا کہ واجب نہیں، قضا مستحب ہے۔
(واللہ اعلم)۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئ | صحابية | |
👤←👥هارون ابن أم هانئ هارون ابن أم هانئ ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية | مجهول | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← هارون ابن أم هانئ | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت تغير في آخر عمره |
Sunan Darmi Hadith 1773 in Urdu
هارون ابن أم هانئ ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية