🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب الفضل فى استلام الحجر:
حجر اسود کو بوسہ دینے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ". قَالَ سُلَيْمَانُ: لِمَنْ اسْتَلَمَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود کو قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتا ہو گا اور ایک زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا، گواہی دے گا اس شخص کی جس نے اس کو حق کے ساتھ چوما۔ سلیمان بن حرب نے کہا: یعنی حجر اسود ان کے لئے گواہی دے گا جس نے اسے بوسہ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1877]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1881] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 961] ، [ابن ماجه 2944] ، [أبويعلی 2719] ، [ابن حبان 3711] ، [الموارد 1005، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1876)
حق کے ساتھ چومنے کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ، اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے حجرِ اسود کو شرک کی حالت میں چوما۔
حجرِ اسود کو چومنا یا استلام کرنا عبادت اور سنّت ہے، کسی اور پتھر کو چومنا، ہاتھ لگانا درست نہیں اور نہ یہ عقیدہ رکھنا جائز ہے کہ حجرِ اسود بنفسہ نفع و نقصان کی قدرت رکھتا ہے، اسی شرکیہ عقیدے کو ختم کرنے کے لئے امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی نہ چومتا۔
[ابن ماجه 2943] ۔
یہ حدیث آگے (1903) پر آرہی ہے۔
اس لئے حجرِ اسود کا چومنا یا بیت اللہ الحرام کا طواف کرنا کسی پتھر یا عمارت کی عظمت کے لئے نہیں بلکہ اتباعِ سنّت کے لئے ہے۔
واللہ اعلم۔
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← سعيد بن جبير الأسدي
مقبول
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عبد الله بن عثمان القاري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة إمام حافظ
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد
Newالحجاج بن المنهال الأنماطي ← سليمان بن حرب الواشحي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 1877 in Urdu