سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَمَا يَحْدُثُ فِيهِ:
زمانے کے تغیر اور اس میں رونما ہونے والے حادثات کا بیان
حدیث نمبر: 195
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ، وَمَا عُبِدَتْ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ إِلَّا بِالْمَقَايِيسِ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس ہے اور قیاس کی ہی بدولت سورج و چاند کی عبادت کی گئی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 195] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1675] ، [تفسير الطبري 131/8] ، [الفقيه والمتفقه 506] ، [الإحكام لابن حزم 1381/8]
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1675] ، [تفسير الطبري 131/8] ، [الفقيه والمتفقه 506] ، [الإحكام لابن حزم 1381/8]
وضاحت: (تشریح حدیث 194)
شیطان کا قیاس یہ تھا کہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں افضل ہوں، اور افضل مفضول کو کیسے سجدہ کرے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
شیطان کا قیاس یہ تھا کہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں افضل ہوں، اور افضل مفضول کو کیسے سجدہ کرے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
Sunan Darmi Hadith 195 in Urdu