الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب تغير الزمان وما يحدث فيه:
زمانے کے تغیر اور اس میں رونما ہونے والے حادثات کا بیان
حدیث نمبر: 196
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ الْحَسَنِ أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ سورة الأعراف آية 12 قَالَ: "قَاسَ إِبْلِيسُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ".
مطر (الوراق) سے مروی ہے کہ حسن رحمہ اللہ نے یہ آیت شریفہ تلاوت فرمائی: « ﴿خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ﴾ » [الأعراف: 12/7] اور کہا ابلیس نے قیاس کیا اور وہ پہلا ہے جس نے قیاس کیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل محمد بن كثير ومطر، [مكتبه الشامله نمبر: 196] »
اس روایت کی سند میں دو راوی محمد بن کثیر اور مطر الوراق ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 131/8] ، [الفقيه 506] ، [الإحكام 1381/8]
اس روایت کی سند میں دو راوی محمد بن کثیر اور مطر الوراق ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 131/8] ، [الفقيه 506] ، [الإحكام 1381/8]
وضاحت: (تشریح حدیث 195)
ابلیس نے آیتِ شریفہ کے مطابق قیاس یہ کیا کہ: اے رب! مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور ان کو (آدم علیہ السلام کو) مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔
ابلیس نے آیتِ شریفہ کے مطابق قیاس یہ کیا کہ: اے رب! مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور ان کو (آدم علیہ السلام کو) مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔