🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب السنة فى الأضحية:
قربانی کرنے کا سنت طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1985
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ، فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا:"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ. إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ"، ثُمَّ سَمَّى اللَّهَ وَكَبَّرَ وَذَبَحَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلہ کی طرف کیا تو یہ آیت پڑھی: «إِنِّيْ وَجَّهْتُ ...... الْمُسْلِمِيْنَ» میں نے اپنا منہ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور میں سیدھا مسلمان ہوں، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت سب اللہ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہانوں کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اس کا حکم ہوا اور میں سب سے پہلے اس کے تابعداروں میں سے ہوں۔ پھر یہ دعا پڑھی: «اَللّٰهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهٖ» یعنی: اے الله یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے (تو نے ہی مجھے عطا کی) اور صرف تیرے لئے ہے محمد اور اس کی امت کی طرف سے۔ پھر «بسم الله الله اكبر» کہا اور ذبح کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 1989] »
اس روایت کی سند تو ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں۔ دیکھئے: [مسلم 1977] ، [أبوداؤد 2795] ، [ترمذي 1521،] [ابن ماجه 3121] ، [أبويعلی 1792] ، [مجمع الزوائد 6047]
وضاحت: (تشریح احادیث 1983 سے 1985)
قربانی کرنا سنّت ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، خلوصِ وللّٰہیت سے کی جائے تو خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، اس کے لئے صاحبِ نصاب ہونا ضروری نہیں، استطاعت ہو تو قربانی کرے نہیں ہے تو ادھار لے کر قربانی کرنا درست نہیں، قربانی بکرا، مینڈھا، گائے اور اونٹ کی ہو سکتی ہے، ایک بکرا یا ایک مینڈھا ایک فیملی کی طرف سے کافی ہے، گائے اور اونٹ میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
مذکورہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈھے کی قربانی ثابت ہے، گرچہ ایک مینڈھا کافی تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قربانی اپنی اور امّت کی طرف سے کی اور ایک اہل و عیال کی طرف سے، قربانی کرتے وقت مینڈھے کو قبلہ رو لٹایا، اس پر پیر رکھا، اور مذکورہ بالا آیت و دعا پڑھی اور پھر دست ڈالا قربانی کا، یہی طریقہ ہے، اسی طرح قربانی کرنا سنّت ہے، اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے، (آمین)۔
قربانی کے دیگر مسائل آگے آرہے ہیں۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو عياش بن النعمان المعافري، أبو عياش
Newأبو عياش بن النعمان المعافري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
مقبول
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← أبو عياش بن النعمان المعافري
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يزيد بن قيس الأزدي
صدوق مدلس
👤←👥أحمد بن خالد الوهبي، أبو سعيد
Newأحمد بن خالد الوهبي ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث