یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما كان عليه الناس قبل مبعث النبى صلى الله عليه وسلم من الجهل والضلالة
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے لوگ جس جہالت و گمراہی میں مبتلا تھے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِيُّ، عَنْ مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ أَبِي الْحَرَامِ مِنْ لَخْمٍ، عَنْ الْوَضِينِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ، فَكُنَّا نَقْتُلُ الْأَوْلَادَ، وَكَانَتْ عِنْدِي ابْنَةُ لِي فَلَمَّا أَجَابَتْ، وَكَانَتْ مَسْرُورَةً بِدُعَائِي إِذَا دَعَوْتُهَا، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَاتَّبَعَتْنِي فَمَرَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُ بِئْرًا مِنْ أَهْلِي غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَرَدَّيْتُ بِهَا فِي الْبِئْرِ، وَكَانَ آخِرَ عَهْدِي بِهَا أَنْ تَقُولَ: يَا أَبَتَاهُ! يَا أَبَتَاهُ! فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَكَفَ دَمْعُ عَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْزَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:"كُفَّ فَإِنَّهُ يَسْأَلُ عَمَّا أَهَمَّهُ"، ثُمَّ قَالَ لَهُ:"أَعِدْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ"فَأَعَادَهُ، فَبَكَى حَتَّى وَكَفَ الدَّمْعُ مِنْ عَيْنَيْهِ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَضَعَ عَنْ الْجَاهِلِيَّةِ مَا عَمِلُوا، فَاسْتَأْنِفْ عَمَلَكَ".
وضین بن عطاء خزاعی نے روایت کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم دور جاہلیت میں تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، اولاد کوقتل کر دیا کرتے تھے، میری ایک بیٹی تھی، جب وہ بات سمجھنے لگی اور میری پکار سے خوش ہونے لگی تو ایک دن میں نے اسے بلایا، وہ میرے پیچھے پیچھے چلنے لگی، میں چلتے ہوئے اپنے عزیز کے ایک کنویں کے پاس آیا جو قریب ہی تھا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کنویں میں دھکا دے دیا، وہ ابا جان، ابا جان پکارتی رہی، یہی اس کے آخری کلمات تھے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، آنسو بہنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم نشین حضرات میں سے ایک نے کہا: تم نے اللہ کے رسول کو رنجیدہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو، انہوں نے وہی چیز معلوم کی ہے جو ان کے لئے اہم ہے“، پھر ان سے کہا: ”اپنا قصہ دوبارہ سناؤ“، انہوں نے پھر کہہ سنایا یہاں تک کہ آپ کے آنسو جاری ہو کر ریش مبارک کو تر کر گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالی نے دور جاہلیت کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں اس لئے اب اچھے کام شروع کر دو۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أنه مرسل وقد تفرد بروايته الدارمي، [مكتبه الشامله نمبر: 2] »
اس حدیث کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے روایت نہیں کیا، یہ مرسل ہے اور وضین صدوق سئی الحفظ ہیں لیکن حدیث کا آخری جملہ «إن الله قد وضع...» صحیح ہے۔ والله أعلم۔
اس حدیث کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے روایت نہیں کیا، یہ مرسل ہے اور وضین صدوق سئی الحفظ ہیں لیکن حدیث کا آخری جملہ «إن الله قد وضع...» صحیح ہے۔ والله أعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الوضين بن عطاء الخزاعي، أبو كنانة، أبو عبد الله | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مسرة بن معبد اللخمي مسرة بن معبد اللخمي ← الوضين بن عطاء الخزاعي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الوليد بن النضر المسعودي، أبو العباس الوليد بن النضر المسعودي ← مسرة بن معبد اللخمي | مقبول |
Sunan Darmi Hadith 2 in Urdu
مسرة بن معبد اللخمي ← الوضين بن عطاء الخزاعي