🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في: ذكاة الجنين ذكاة أمه :
پیٹ کے بچے کی ذکاۃ اس کی ماں کی زکاۃ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: يُؤْكَلُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کا ذبح کرنا وہی ہے جو اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے، امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا وہ بھی کھایا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 2022] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2828] ، [أبويعلی 1808] ، [مجمع الزوائد 6124، وله شاهد عند أبى يعلی 992] ، [ابن حبان 5889] ، [موارد الظمآن 1077]
وضاحت: (تشریح حدیث 2017)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو بکری ذبح کی جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ نکل آئے تو اس بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں، اس کو ویسے ہی بنا ذبح کئے ہوئے کھایا جا سکتا ہے۔
اکثر علماء کا یہ ہی مذہب ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زندہ نکلے تو ذبح کر کے کھائے اور مردہ ہو تو نہ کھائے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبيد الله بن أبي زياد القداح، أبو الحصين
Newعبيد الله بن أبي زياد القداح ← محمد بن مسلم القرشي
مقبول
👤←👥عتاب بن بشير الجزري، أبو سهل، أبو الحسن
Newعتاب بن بشير الجزري ← عبيد الله بن أبي زياد القداح
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عتاب بن بشير الجزري
ثقة حافظ إمام