سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب النهي عن أكل الطعام الحار:
گرم کھانا کھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِثَرِيدٍ، أَمَرَتْ بِهِ فَغُطِّيَ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرَةُ دُخَانِهِ، وَتَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "هُوَ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ".
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس جب ثرید لایا جاتا تو وہ حکم دیتی تھیں کہ اسے ڈھانپ دیا جائے یہاں تک کہ اس کا ابھال اور بھاپ وغیرہ ختم ہو جائے (یعنی ٹھنڈا ہو جائے) اور وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہ (یعنی ٹھنڈا کر کے کھانا) بہت زیادہ برکت کا سبب ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2091] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 5207] ، [موارد الظمآن 1344]
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 5207] ، [موارد الظمآن 1344]
وضاحت: (تشریح حدیث 2083)
اس روایت سے کھانا ٹھنڈا کر کے کھانا ثابت ہوا، اور ٹھنڈا کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ فریج میں رکھ کر کھایا جائے بلکہ فوراً چولہے سے اترا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے کیونکہ اس سے ضرر پہنچنے کا بھی خطرہ ہے اور عدم برکت کی خبر ہے، اردو میں مثل مشہور ہے کہ ٹھنڈا کر کے کھانا چاہیے یعنی کھانے اور کسی بھی کام میں عجلت مناسب نہیں۔
واللہ اعلم۔
اس روایت سے کھانا ٹھنڈا کر کے کھانا ثابت ہوا، اور ٹھنڈا کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ فریج میں رکھ کر کھایا جائے بلکہ فوراً چولہے سے اترا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے کیونکہ اس سے ضرر پہنچنے کا بھی خطرہ ہے اور عدم برکت کی خبر ہے، اردو میں مثل مشہور ہے کہ ٹھنڈا کر کے کھانا چاہیے یعنی کھانے اور کسی بھی کام میں عجلت مناسب نہیں۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥قرة بن عبد الرحمن المعافري، أبو محمد، أبو حيوئيل قرة بن عبد الرحمن المعافري ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق له مناكير | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← قرة بن عبد الرحمن المعافري | ثقة حافظ | |
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد دحيم القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة حافظ متقن |
عروة بن الزبير الأسدي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية