🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب فى سنة الشراب كيف هي:
بچا ہوا مشروب کس کو دینا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2153
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ فَضْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: "الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچا ہوا دودھ اس دیہاتی کو دیا، پھر فرمایا: پہلے دائیں طرف سے، پھر اس کے دائیں طرف سے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2162] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5619] ، [مسلم 2029] ، [أبوداؤد 3726] ، [ترمذي 1893] ، [ابن ماجه 3425] ، [أبويعلی 3552] ، [ابن حبان 5333] ، [الحميدي 1216]
وضاحت: (تشریح حدیث 2152)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچا ہوا مشروب پینے والا پہلے اپنے دائیں طرف والے کو دے، وہ اپنے دائیں طرف والے کو، مذکورہ بالا حدیث میں اسی کی رعایت کی گئی ہے حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا درجہ بہت بلند تھا لیکن اسی قاعدے کے مطابق ایک دیہاتی کو ترجیح دی گئی۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة مأمون
👤←👥عبد القدوس بن الحجاج الخولاني، أبو المغيرة
Newعبد القدوس بن الحجاج الخولاني ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة