علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب فى الذى يكرع فى النهر:
نہر پر منہ لگا کر پانی پینے کا بیان
حدیث نمبر: 2160
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُهُ، وَجَدْوَلٌ يَجْرِي، فَقَالَ: "إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي الشَّنِّ، وَإِلَّا كَرَعْنَا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور باغ کی نہر جاری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا پانی ہو تو لاؤ ورنہ ہم نہر سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2169] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5613، 5621] ، [أبويعلی 2097] ، [ابن حبان 5314، 5389]
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5613، 5621] ، [أبويعلی 2097] ، [ابن حبان 5314، 5389]
وضاحت: (تشریح حدیث 2159)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر یا حوض میں منہ لگا کر پانی پینا درست ہے۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ اس انصاری صحابی کے پاس مشک میں پانی موجود تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پانی پیا کیونکہ وہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
اس حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لئے جانا، تواضع اور حسنِ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر یا حوض میں منہ لگا کر پانی پینا درست ہے۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ اس انصاری صحابی کے پاس مشک میں پانی موجود تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پانی پیا کیونکہ وہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
اس حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لئے جانا، تواضع اور حسنِ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 2160 in Urdu
سعيد بن الحارث الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري