سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب فى كراهية أخذ الرأي:
رائے اور قیاس پر عمل کرنے سے ناپسندیدگی کا بیان
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "الْقَصْدُ فِي السُّنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الِاجْتِهَادِ فِي الْبِدْعَةِ".
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنت کی میانہ روی بدعت میں مشقت برداشت کرنے سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 223] »
اس روایت کی سند جید ہے، اور بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [شرح اعتقاد أهل السنة 14، 114] ، [المستدرك 103/1] ، [الفقيه 148/1] ، [السنة للمروزي 88] و [جامع بيان العلم 2334]
اس روایت کی سند جید ہے، اور بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [شرح اعتقاد أهل السنة 14، 114] ، [المستدرك 103/1] ، [الفقيه 148/1] ، [السنة للمروزي 88] و [جامع بيان العلم 2334]
وضاحت: (تشریح احادیث 221 سے 223)
ان تمام آثار و احادیث سے ثابت ہوا کہ: سنّت کو لازم پکڑنا چاہئے اور بدعت سے، بدعتی سے، نیز رائے زنی اور قیاس آرائی سے بچنا چاہئے۔
ان تمام آثار و احادیث سے ثابت ہوا کہ: سنّت کو لازم پکڑنا چاہئے اور بدعت سے، بدعتی سے، نیز رائے زنی اور قیاس آرائی سے بچنا چاہئے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 223 in Urdu
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود