الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب النهي عن ضرب النساء:
عورتوں، بیویوں کو مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 2257
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمَعَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ، فَقَالَ: "مَا بَالُ الرَّجُلِ يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ؟!".
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور عورتوں کے بارے میں لوگوں کو نصیحت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے آدمی اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتا ہے، حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہم بستری بھی کرتا ہے (یا کرے گا)۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2266] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4942] ، [مسلم 2855] ، [ترمذي 3343] ، [ابن ماجه 1983] ، [ابن حبان 4189] ، [موارد الظمآن 1316] ، [الحميدي 900]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4942] ، [مسلم 2855] ، [ترمذي 3343] ، [ابن ماجه 1983] ، [ابن حبان 4189] ، [موارد الظمآن 1316] ، [الحميدي 900]
وضاحت: (تشریح احادیث 2254 سے 2257)
آدمی پہلے مارے پھر پیار کرے، یہ علاقۂ زوجیت میں نفرتیں پیدا کر سکتا ہے۔
بہتر تو یہ ہے کہ حتی المقدور عورت پر ہاتھ ہی نہ اٹھائے، اور بہت بڑا اس کا قصور ہو تو پہلے ناراضگی کا الفاظ میں اظہار کرے، ڈانٹے، پاس سلانا چھوڑ دے یا منہ موڑ کر سووے، اگر پھر بھی راہِ راست پر نہ آئے تو ہلکی سرزنش کرے یا مارے لیکن چہرے پر نہ مارے۔
کتنے پیارے رحم دل تھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ نہ کبھی کسی خادم کو مارا، نہ بیوی کو ستایا، اور نہ کسی اور آدمی کو سرزنش کے طور پر مارا، ویسے تو ساری امّت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہربان تھے، اپنے اہل و عیال، بیوی بچوں کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی اچھے، رحیم و کریم، شفیق و مہربان تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لئے اچھا ہو اور میں اپنے اہل و عیال کے لئے اچھا ہوں۔
“ اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہ تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔
افسوس آج اگر بیوی کے ساتھ احسان و اچھا سلوک کیا جائے تو بعض لوگ جورو کے غلام ہونے کا طعنہ دیتے ہیں، (ہدا ہم اللہ)۔
ان احادیثِ مبارکہ میں قول و فعل ہر طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور حتی الامکان مار پیٹ نہ کرنے کی تعلیم دی۔
بڑے فصیح و بلیغ انداز میں فرمایا: ایک انسان دن میں اپنی بیوی کو مارے شام کو گلے لگائے، اس پر اس کو شرم دلائی ہے، پھر مارنے کی ضرورت پڑ جائے تو مارے لیکن گدھے گھوڑے اور غلام کی طرح نہ مارے، اور ذلیل و خوار نہ کرے، افراط و تفریط سے بچے۔
واللہ اعلم۔
آدمی پہلے مارے پھر پیار کرے، یہ علاقۂ زوجیت میں نفرتیں پیدا کر سکتا ہے۔
بہتر تو یہ ہے کہ حتی المقدور عورت پر ہاتھ ہی نہ اٹھائے، اور بہت بڑا اس کا قصور ہو تو پہلے ناراضگی کا الفاظ میں اظہار کرے، ڈانٹے، پاس سلانا چھوڑ دے یا منہ موڑ کر سووے، اگر پھر بھی راہِ راست پر نہ آئے تو ہلکی سرزنش کرے یا مارے لیکن چہرے پر نہ مارے۔
کتنے پیارے رحم دل تھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ نہ کبھی کسی خادم کو مارا، نہ بیوی کو ستایا، اور نہ کسی اور آدمی کو سرزنش کے طور پر مارا، ویسے تو ساری امّت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہربان تھے، اپنے اہل و عیال، بیوی بچوں کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی اچھے، رحیم و کریم، شفیق و مہربان تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لئے اچھا ہو اور میں اپنے اہل و عیال کے لئے اچھا ہوں۔
“ اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہ تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔
افسوس آج اگر بیوی کے ساتھ احسان و اچھا سلوک کیا جائے تو بعض لوگ جورو کے غلام ہونے کا طعنہ دیتے ہیں، (ہدا ہم اللہ)۔
ان احادیثِ مبارکہ میں قول و فعل ہر طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور حتی الامکان مار پیٹ نہ کرنے کی تعلیم دی۔
بڑے فصیح و بلیغ انداز میں فرمایا: ایک انسان دن میں اپنی بیوی کو مارے شام کو گلے لگائے، اس پر اس کو شرم دلائی ہے، پھر مارنے کی ضرورت پڑ جائے تو مارے لیکن گدھے گھوڑے اور غلام کی طرح نہ مارے، اور ذلیل و خوار نہ کرے، افراط و تفریط سے بچے۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن زمعة القرشي | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن زمعة القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون جعفر بن عون القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة |
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن زمعة القرشي