سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب فى اللعان:
لعان کا بیان
حدیث نمبر: 2269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: "فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی میں تفریق کرا دی اور بچہ اس کی ماں کو دے دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو عند مالك في الطلاق، [مكتبه الشامله نمبر: 2278] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5315] ، [مسلم 1493] ، [أبوداؤد 2259] ، [ترمذي 1203] ، [نسائي 3477] ، [ابن ماجه 2069] ، [أبويعلی 5772] ، [ابن حبان 4288]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5315] ، [مسلم 1493] ، [أبوداؤد 2259] ، [ترمذي 1203] ، [نسائي 3477] ، [ابن ماجه 2069] ، [أبويعلی 5772] ، [ابن حبان 4288]
وضاحت: (تشریح حدیث 2268)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگائے تو ان کے درمیان لعان کے بعد تفریق ہو جائے گی، اور اگر بچہ پیدا ہوا تو وہ ماں کے حوالے کر دیا جائے گا، باپ کی طرف منسوب نہ ہوگا، وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اپنے باپ کا نہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگائے تو ان کے درمیان لعان کے بعد تفریق ہو جائے گی، اور اگر بچہ پیدا ہوا تو وہ ماں کے حوالے کر دیا جائے گا، باپ کی طرف منسوب نہ ہوگا، وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اپنے باپ کا نہیں۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥محمد بن عبد الله الرقاشي، أبو عبد الله محمد بن عبد الله الرقاشي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي