سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب قول الله تعالى: {لا يحل لك النساء من بعد}:
فرمانِ باری تعالی: «لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ» کا بیان
حدیث نمبر: 2278
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: الله تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے یہ بات حلال کر دی تھی کہ آپ جس عورت سے چاہیں نکاح کر لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2287] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 3207، كتاب النكاح، باب ما افترض الله على رسوله .......] ، [ابن حبان 6366] ، [موارد الظمآن 2126] ، [الحميدي 237]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 3207، كتاب النكاح، باب ما افترض الله على رسوله .......] ، [ابن حبان 6366] ، [موارد الظمآن 2126] ، [الحميدي 237]
وضاحت: (تشریح احادیث 2276 سے 2278)
پہلے الله تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ اب تم کو زیادہ عورتیں کرنا درست نہیں: «﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ .....﴾ [الأحزاب: 52] » نہ ان عورتوں کے بدلے اور عورتیں آپ کے لئے حلال ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ حکم منسوخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی گئی کہ جتنی عورتیں چاہیں نکاح میں لائیں۔
(وحیدی)۔
پہلے الله تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ اب تم کو زیادہ عورتیں کرنا درست نہیں: «﴿لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ .....﴾ [الأحزاب: 52] » نہ ان عورتوں کے بدلے اور عورتیں آپ کے لئے حلال ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ حکم منسوخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی گئی کہ جتنی عورتیں چاہیں نکاح میں لائیں۔
(وحیدی)۔
الرواة الحديث:
عبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق