🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب كم رضعة تحرم:
کتنی بار کے دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2290
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "نَزَلَ الْقُرْآنُ بِعَشْرِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: قرآن پاک میں یہ حکم نازل ہوا کہ دس بار دودھ پینے سے حرمت ہو جاتی ہے (یعنی نکاح حرام ہو جاتا ہے)، پھر یہ حکم پانچ بار دودھ پینے سے منسوخ کر دیا گیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، اس وقت پانچ کی معروف تعداد قرآن میں پڑھی جاتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2290]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو عند مالك في الرضاع، [مكتبه الشامله نمبر: 2299] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1452] ، [أبوداؤد 2062] ، [ترمذي 1150] ، [نسائي 3307] ، [ابن ماجه 1944]
وضاحت: (تشریح احادیث 2288 سے 2290)
معلومات سے مراد محقق و ثابت شدہ ہے، یعنی جب رضاعت مشکوک ہو تو حرمت ثابت نہیں ہوگی، اور قرآن میں پڑھی جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ کی تعداد کا نسخ اتنی تاخیر سے ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا واقعہ پیش آ گیا اور بعض لوگ پھر بھی ان پانچ کی تعداد کو قرآن سمجھ کر تلاوت کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب ان کو نسخ کا حکم معلوم ہوا تو اس سے انہوں نے رجوع کر لیا اور سب متفق ہو گئے کہ اب اس کی تلاوت نہیں کی جائے گی۔
رضاعت کا حکم کتنا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے، اس میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا کہ یہ حکم دودھ تھوڑا پیا ہو یا زیادہ ثابت ہو جاتا ہے یعنی اس میں قلیل و کثیر کی کوئی قید نہیں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ رضاعت کا حکم تین بار پینے سے ثابت ہوتا ہے، دو دفعہ پینے سے نہیں، جیسا کہ حدیث «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ» سے واضح ہوتا ہے۔
تیسرا قول ہے کہ پانچ بار بچہ دودھ پی لے تب ہی رضاعت اور حرمت ثابت ہوتی ہے، یہی قول زیادہ قوی اور راجح ہے۔
اس باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آخری حدیث میں نسخ کا ذکر ہے جو قرآن پاک میں تین انواع پر مشتمل ہے۔
پہلا یہ کے حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہو گئے جیسے دس مرتبہ دودھ پینے والی آیت۔
دوسرے یہ کہ تلاوت منسوخ ہوگئی لیکن حکم باقی ہے جیسے پانچ مرتبہ دودھ پینے کی آیت اور آیت الرجم «الشيخ والشيخه إذا زنيا فارجموهما.» اور تیسرے یہ کہ حکم منسوخ ہوگیا لیکن تلاوت ابھی باقی ہے اور قرآن پاک میں ایسی بہت سی آیات ہیں جیسے آیتِ وصیت: «﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ .....﴾ [البقره: 240] » وغیرہ آیات قرآنیہ۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة حافظ إمام