سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب فى المماليك إذا زنوا يقيم عليهم سادتهم الحد دون السلطان:
لونڈی اور غلام اگر زنا کریں تو حاکم وقت کے بجائے ان کے مالک ہی ان پر حد نافذ کر سکتے ہیں
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ، فَقَالَ: "إِنْ زَنَتْ، فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا". قَالَ: فَمَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ"فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ".
سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر شادی شدہ لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا جو زنا کر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ پھر زنا کرے پھر کوڑے لگاؤ، پھر زنا کرے پھر کوڑے لگاؤ“، راوی نے کہا: یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے کے لئے تیسری بار میں فرمایا یا چوتھی بار میں کہ ”اگر پھر زنا کرے تو اس کو بیچ دو، گرچہ ایک رسی کے عوض ہی وہ فروخت ہو“ (یعنی رسی جیسی کم قیمت میں ہی بیچ دو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي وهو عند مالك في الحدود، [مكتبه الشامله نمبر: 2371] »
اس حدیث کی سند قوی اورمتفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2152] ، [مسلم 1704] ، [أبوداؤد 4469] ، [ترمذي 1433] ، [ابن ماجه 2565] ، [ابن حبان 4444] ، [الحميدي 831]
اس حدیث کی سند قوی اورمتفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2152] ، [مسلم 1704] ، [أبوداؤد 4469] ، [ترمذي 1433] ، [ابن ماجه 2565] ، [ابن حبان 4444] ، [الحميدي 831]
وضاحت: (تشریح حدیث 2362)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور غلام پر اس کا مالک حد نافذ کر سکتا ہے، اہل الحدیث کا یہی ملک ہے، اور آزاد کے مقابلے میں ان پر آدھی حد نافذ کی جائے گی یعنی 50 کوڑے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25] » اور اگر لونڈی شادی شدہ ہے تو اس پر حد نافذ کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس پر حکومت حد نافذ کرے گی یا خود مالک، جمہور کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی مالک حد لگائے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے اس کی نفی کی ہے کیونکہ شادی شدہ ہونے کی وجہ سے وہ مالک کی لونڈی ہے تو کسی اور کی بیوی بھی ہے، ہاں اگر خاوند بھی غلام ہو تو پھر مالک حد لگا سکتا ہے۔
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر لونڈی محصنہ ہو تو اس کو سنگسار کرو حالانکہ لونڈی پر بالاجماع رجم نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں ہے (کہ ان پر پاک دامن عورتوں کی سزا سے نصف (آدھی) سزا ہے، اور رجم کا نصف نہیں ہو سکتا تو کوڑوں کا نصف مراد ہوگا یعنی پچاس کوڑے مارو)۔
(وحیدی)۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور غلام پر اس کا مالک حد نافذ کر سکتا ہے، اہل الحدیث کا یہی ملک ہے، اور آزاد کے مقابلے میں ان پر آدھی حد نافذ کی جائے گی یعنی 50 کوڑے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25] » اور اگر لونڈی شادی شدہ ہے تو اس پر حد نافذ کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس پر حکومت حد نافذ کرے گی یا خود مالک، جمہور کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی مالک حد لگائے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے اس کی نفی کی ہے کیونکہ شادی شدہ ہونے کی وجہ سے وہ مالک کی لونڈی ہے تو کسی اور کی بیوی بھی ہے، ہاں اگر خاوند بھی غلام ہو تو پھر مالک حد لگا سکتا ہے۔
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر لونڈی محصنہ ہو تو اس کو سنگسار کرو حالانکہ لونڈی پر بالاجماع رجم نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں ہے (کہ ان پر پاک دامن عورتوں کی سزا سے نصف (آدھی) سزا ہے، اور رجم کا نصف نہیں ہو سکتا تو کوڑوں کا نصف مراد ہوگا یعنی پچاس کوڑے مارو)۔
(وحیدی)۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥زيد بن خالد الجهني، أبو عبد الرحمن، أبو زرعة، أبو طلحة زيد بن خالد الجهني ← أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← زيد بن خالد الجهني | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم خالد بن مخلد القطواني ← مالك بن أنس الأصبحي | مقبول |
زيد بن خالد الجهني ← أبو هريرة الدوسي