🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب لمن يعفو عن قاتله:
جو شخص اپنے قاتل کو معاف کر دے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:"أَتَعْفُو؟". قَالَ: لَا. قَالَ:"فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟". قَالَ: لَا. قَالَ:"فَتَقْتُلُهُ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ، فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ". قَالَ: فَتَرَكَهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، قَدْ عَفَا عَنْهُ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک قاتل تسمہ سے بندھا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تم اس قاتل کو معاف کروگے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دیت لوگے؟ عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس کو قتل کرو گے؟ کہا: جی ہاں قتل کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس قاتل کو معاف کر دو گے تو یہ تمہارا اور تمہارے مقتول (بھائی) کا گناہ سمیٹ لے جائے گا، وائل نے کہا: چنانچہ اس صحابی نے قاتل کو چھوڑ دیا اور میں دیکھ رہا تھا کہ وہ قاتل اپنا تسمہ کھینچ کر جا رہا تھا، اس نے قاتل کو معاف کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2404] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1680] ، [أبوداؤد 4499، 4500] ، [نسائي 4728] ، [بيهقي فى السنن 55/8] و [معرفة السنن و الآثار 15901، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2395)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قتلِ عمد میں مقتول کے وارثین کو اختیار ہے کہ قصاص میں قاتل کے قتل کرنے کا مطالبہ کریں، یا معاف کر دیں، یا پھر دیت لے لیں جیسا کہ (2388) میں ذکر کیا گیا ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرموں کو باندھنا اور انہیں حاکم کے سامنے پیش کرنا، مدعی کا مدعا علیہ سے پہلے جواب لینا، اگر وہ اقرار کر لے تو گواہوں کی ضرورت نہ ہوگی، حاکم کا مقتول کے وارث سے معافی کے لئے ترغیب دینا اور درخواست کرنا، نیز معافی کا صحیح ہونا، مقدمہ رجوع ہونے کے بعد بھی دیت کا جائز ہونا، قاتل کو قصاص کے لئے وارثین کے حوالے کرنا، یہ سب مسائل مذکورہ بالا حدیث سے نکلے ہیں۔
(وحیدی، شرح مسلم)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدةصحابي
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي
Newعلقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي
ثقة
👤←👥حمزة بن عمرو العائذي، أبو عمر
Newحمزة بن عمرو العائذي ← علقمة بن وائل الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← حمزة بن عمرو العائذي
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن عبد الله الهمداني، أبو عبيدة
Newأحمد بن عبد الله الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
صدوق حسن الحديث