سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب القصاص بين العبيد:
غلاموں کے درمیان قصاص کس طرح ہو گا
حدیث نمبر: 2405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: "أَنَّ عَبْدًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ، قَطَعَ يَدَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ. فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ؟ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقیروں کے غلام نے مالداروں کے غلام کا ہاتھ کاٹ ڈالا، اس کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ غلام فقیروں کا ہے (یعنی جو دیت ادا نہیں کر سکتے) اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کچھ بھی (دیت) مقرر نہ کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2405]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن يزيد الرفاعي وأبو نضرة هو: المنذر بن مالك بن قطة، [مكتبه الشامله نمبر: 2413] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4590] ، [نسائي 4765] ، [البيهقي 105/8] ، [الطبراني 512، 208/18 باسناد صحيح]
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4590] ، [نسائي 4765] ، [البيهقي 105/8] ، [الطبراني 512، 208/18 باسناد صحيح]
وضاحت: (تشریح حدیث 2404)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانی اگر غیرمستطیع ہو تو اس سے دیت معاف کر دی جائے گی، اور بیت المال سے دیت ادا کرنی ہوگی۔
ابوداؤد وغیرہ میں غلام نہیں بلکہ عام لڑکے کا ذکر ہے جس کا کان کاٹ دیا تھا۔
المنتقی میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا نے کہا کہ عاقلہ یعنی (دیت ادا کرنے والے) فقیر ہوں تو ان پر ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور اس صورت میں قاتل سے بھی مواخذہ نہیں ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانی اگر غیرمستطیع ہو تو اس سے دیت معاف کر دی جائے گی، اور بیت المال سے دیت ادا کرنی ہوگی۔
ابوداؤد وغیرہ میں غلام نہیں بلکہ عام لڑکے کا ذکر ہے جس کا کان کاٹ دیا تھا۔
المنتقی میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دادا نے کہا کہ عاقلہ یعنی (دیت ادا کرنے والے) فقیر ہوں تو ان پر ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور اس صورت میں قاتل سے بھی مواخذہ نہیں ہوگا۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة المنذر بن مالك العوفي ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← المنذر بن مالك العوفي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله معاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن يزيد الرفاعي، أبو هشام محمد بن يزيد الرفاعي ← معاذ بن هشام الدستوائي | ضعيف الحديث |
Sunan Darmi Hadith 2405 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← عمران بن حصين الأزدي