سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فى فضل من جهز غازيا:
جو شخص مجاہد کو تیاری کرائے اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2456
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ خَلَفَ فِي أَهْلِهِ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا".
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا اور غازی کے گھر بار کی اس کے پیچھے خیر خواہانہ طریق پر نگہبانی کی تو الله تعالیٰ اس کے لئے بھی مجاہد و غازی کا اجر لکھتا ہے اور غازی کے اجر میں کچھ بھی کمی نہیں ہوتی ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وعبد الملك هو: ابن أبي سليمان وعطاء هو: ابن أبي رباح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2463] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2843] ، [مسلم 1895] ، [أبوداؤد 2509] ، [ترمذي 1628] ، [نسائي 3180] ، [ابن حبان 4630] ، [موارد الظمآن 1619] ، [الحميدي 837] ۔ لیکن صحیحین اور سنن میں ہے کہ ”جس نے غازی کو ساز و سامان دیا اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر کی نگہبانی کی اس نے (گویا) جہاد کیا۔“
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2843] ، [مسلم 1895] ، [أبوداؤد 2509] ، [ترمذي 1628] ، [نسائي 3180] ، [ابن حبان 4630] ، [موارد الظمآن 1619] ، [الحميدي 837] ۔ لیکن صحیحین اور سنن میں ہے کہ ”جس نے غازی کو ساز و سامان دیا اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر کی نگہبانی کی اس نے (گویا) جہاد کیا۔“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥زيد بن خالد الجهني، أبو عبد الرحمن، أبو زرعة، أبو طلحة | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← زيد بن خالد الجهني | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان عبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة | |
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف يعلى بن عبيد الطناقسي ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى | ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين |
Sunan Darmi Hadith 2456 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← زيد بن خالد الجهني