🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب: لا تتمنوا لقاء العدو :
دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2477
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ، فَاثْبُتُوا، وَأَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ، فَإِنْ أَجْلَبُوا وَضَجُّوا، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّمْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن سے لڑائی کرنے کی آرزو نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کرو، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو، اور جب وہ چیخ و پکار کریں تو تم خاموش رہو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف عبد الرحمن بن زياد هو: ابن أنعم الأفريقي، [مكتبه الشامله نمبر: 2484] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن دوسرے طرق سے اس کے متعدد جملے صحیح ہیں۔ دیکھئے: [بخاري 2818، 2833، 2966] ، [مسلم 1748] ، [أبوداؤد 2631] ، [ابن منصور 242/2] ، [البيهقي 153/9، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2476)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاں تک ہو سکے لڑائی سے بچنا، اس کو ٹالنا اور عافیت کی دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اسلام فتنہ و فساد کے سخت خلاف ہے۔
جب صلح صفائی کی کوئی صورت نہ بن سکے، اور دشمن مقابلہ ہی پرآمادہ ہو تو بزدلی نہیں دکھانی چاہیے بلکہ جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہے، اور صبر و استقامت اور پوری قوت سے دشمن کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
بزدلی اور فرار مومن کی شان سے بعید تر ہے، اور ہر حال میں الله کو یاد کرنا چاہیے، فتح و نصرت اسی کے ہاتھ میں ہے، اور موت سے ڈرنا نہیں چاہیے، اگر شہادت لکھی ہے تو یہ بڑی سعادت ہے، اور کوئی طاقت اس سے بچا نہیں سکتی اور موت مقدر نہیں تو یقیناً سلامتی کے ساتھ واپسی ہوگی۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
کامیابی و ناکامی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مشیت کے سامنے سارے آلاتِ حرب، توپ و تفنگ، بم اور دھماکے رکھے رہ جاتے ہیں۔
«(وَهُوَ غَالِبٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ)» ۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن زياد الإفريقي، أبو خالد، أبو أيوب
Newعبد الرحمن بن زياد الإفريقي ← عبد الله بن يزيد المعافري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← عبد الرحمن بن زياد الإفريقي
ثقة