سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب فى قسمة الغنائم كيف تقسم:
مال غنیمت کس طرح تقسیم کیا جائے؟
حدیث نمبر: 2506
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ وهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَأُلِّفْتُ إِلَيْهِمْ. قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: الصَّوَابُ عِنْدِي مَا قَالَ زَكَرِيَّا فِي الْإِسْنَادِ.
زید بن ابی انیسہ نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے، انہوں نے اپنے والد سے ایسے ہی روایت کیا اور فرمایا: میں ان کی طرف متوجہ ہوگیا (یعنی 9 افراد کی طرف)۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: زکریا بن عدی والی سند میرے نزدیک درست ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2506]
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: زکریا بن عدی والی سند میرے نزدیک درست ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2506]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2513] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 348/4] ، [طبراني فى الأوسط 509] ، [أبويعلی 930]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 348/4] ، [طبراني فى الأوسط 509] ، [أبويعلی 930]
وضاحت: (تشریح احادیث 2504 سے 2506)
اس حدیث سے معلوم ہوا جب تک مالِ غنیمت تقسیم نہ ہو جائے اس سے کچھ بھی لینا درست نہیں، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا تھا کہ بلا اجازت تقسیم سے پہلے اونٹ یا اور کوئی جانور ذبح کئے گئے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس آدمی پر ایک بکری تقسیم کی تاکہ اسے ذبح کریں اور کھائیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا جب تک مالِ غنیمت تقسیم نہ ہو جائے اس سے کچھ بھی لینا درست نہیں، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا تھا کہ بلا اجازت تقسیم سے پہلے اونٹ یا اور کوئی جانور ذبح کئے گئے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس آدمی پر ایک بکری تقسیم کی تاکہ اسے ذبح کریں اور کھائیں۔
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← بلال بن بحيحة الأنصاري